.

امریکا نے شامی اپوزیشن اتحاد کو تسلیم کر لیا

فیصلے کا مطلب باغی گروپوں کو اسلحہ فراہمی نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فرانس، ترکی اور چھے خلیجی ملکوں کے بعد امریکا نے بھی شام میں اپوزیشن اتحاد کو باقاعدہ طور پر ملک کی عوام کا جائز نمائندہ تسلیم کر لیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اس اتحاد نے شامی عوام کی نمائندگی کا حق حاصل کر لیا ہے۔ اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا قدم ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد کو تسلیم کیے جانے کے بعد اب اس کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ حقوق کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزبِ اختلاف کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ بااثر طریقے سے خود کو منظم کریں، تمام جماعتوں کو نمائندگی دیں اور ایک ایسا سیاسی نظام بنائیں جس میں خواتین اور اقلیتی گروپوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کو تسلیم کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ امریکا باغی گروپوں کو اسلحہ مہیا کرنا شروع کر دے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا حزبِ اختلاف کے اتحاد میں موجود شدت پسند عناصر کی حمایت نہیں کرے گا۔