.

سعودی عرب کا شامی عوام کے لیے 10 کروڑ ڈالرز کے عطیہ کا اعلان

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب نے شامی عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دس کروڑ ڈالرز کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے بدھ کو مراکش کے جنوبی شہر مراکش میں منعقدہ دوستان شام ممالک کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کی تشکیل سے امید کا ایک نیا موقع پیدا ہوا ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں گذشتہ بیس ماہ سے جاری خانہ جنگی کے بعد صدر بشار الاسد کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے اور باغی جنگجو اب دارالحکومت دمشق تک پہنچ چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''اس اجلاس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ یہ ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب شامی عوام فتح سے ہم کنار ہونے والے ہیں اور وہ اپنی جائز امنگوں کے حصول کے قریب ہیں''۔

ان کا کہنا تھا:''یہ ہمارا انسانی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کو جائز طریقوں سے مدد بہم پہنچائیں جو جبر کے خلاف اور آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں''۔ انھوں نے شدید سرد موسم کے پیش نظر مہاجرین سمیت تمام شامیوں کی مدد پر زور دیا اور ان کی امداد کے لیے ایک ڈونرز کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی۔

مراکش اجلاس میں دوستان شام ممالک نے شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو عوام کے واحد نمائندہ کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہے۔ اس کانفرنس میں ایک سو تیس ممالک کے وزرائے خارجہ یا دوسرے اعلیٰ عہدے دار شریک تھے۔