.

لیبیا مصطفیٰ عبدالجلیل پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام

عدالت میں 20 فروری کو پیشی تک سفری پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لیبیا کے فوجی پراسیکیوٹرز نے سابق حکمراں عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے سربراہ مصطفیٰ عبدالجلیل پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عاید کیا ہے۔

فوجی پراسیکیوٹرز نے بدھ کو مشرقی قصبے مرج میں مصطفیٰ عبدالجلیل سے باغی کمانڈر عبدالفتاح یونس کے جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل کے سلسلہ میں پوچھ گچھ کی ہے اور ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور لیبیا کی قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کا الزام عاید کیا ہے۔

ایک پراسیکیوٹر ماجدی البراسی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مصطفیٰ عبدالجلیل کو ضمانت پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے البتہ ان پر بیس فروری کو ایک فوجی عدالت میں پیش ہونے تک سفری پابندی عاید کر دی گئی ہے۔

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی کی ایک عدالت نے گذشتہ ماہ فوجی پراسیکیوٹرز کو مصطفیٰ عبدالجلیل سے باغی کمانڈر اور سابق وزیر داخلہ عبدالفتاح یونس کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ مصطفیٰ عبدالجلیل نے 29 جولائی 2011ء کو عبدالفتاح یونس کی موت کی اطلاع دی تھی اور یہ بتایا تھا کہ انھیں محاذ جنگ سے واپس لاتے ہوئے ایک مسلح گروپ نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔



یاد رہے کہ عبدالفتاح یونس کو جولائی 2011ء میں محاذ جنگ پر ہونے والی بعض غلطیوں کی تحقیقات کے لیے مشرقی شہر بن غازی واپس لاتے ہوئے باغیوں نے راستے ہی میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے میں ان کے دو ساتھی بھی مارے گئے تھے۔ وہ اس وقت سابق صدر معمر قذافی کی فوج کے خلاف بر سر پیکار باغی جنگجوؤں اور فوج کی قیادت کر رہے تھے۔

قذافی کے دورحکومت میں وزیر انصاف کے عہدے پر فائز رہنے والے مصطفیٰ عبدالجلیل نے گذشتہ سال دسمبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ سابق وزیر داخلہ عبدالفتاح یونس کے قتل میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے قاتلوں کا کچھ پتا نہیں چل سکا۔

عبدالفتاح یونس سابق مردآہن معمر قذافی کے خلاف فروری 2011ء میں شورش بپا ہونے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے اور وہ بن غازی پر قابض انقلابیوں کے ساتھ آ ملے تھے۔



لیبیا میں مسلح عوامی بغاوت کے دوران عبوری قومی کونسل کے چئیرمین مصطفیٰ عبدالجلیل نے باغی جنگجوؤں پر زور دیا تھا کہ وہ قانون کا احترام کریں اور معمر قذافی کی حکومت کے عہدے داروں سے پُرتشدد انتقام نہ لیں مگر باغیوں نے ان کی بات پر کوئی کان نہیں دھرے تھے اور اب لیبیا میں منتخب حکومت کے قیام کے بعد بھی ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ اور ان کی آئے دن تشدد آمیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔