.

ایران میں بعض لوگ نیوکلیئر مسئلے کا حل نہیں چاہتے احمدی نژاد

'نیوکلئیر صلاحیت کے بعد دنیا سے تعاون چاہتے ہیں، تصادم نہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ان کا ملک نیوکلیئر ٹکنالوجی حاصل کر کے نیوکلیئر ملک بن چکا ہے۔ تہران اب دنیا سے تعاون کرنا چاہتا ہے تاہم ملک میں بعض حلقے نیوکلیئر مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔

ایرانی خبر رساں ادارے 'ایسنا' کے مطابق احمدی نژاد نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا انکشاف کیا کہ ان کے ملک میں بعض حلقے نیوکلیئر معاملے کا حل نہیں چاہتے۔ وہ اسے جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ نیوکلیئر ملک بننے کے بعد ہمیں دنیا سے تعاون کرنا ہے۔ ہمارا تصادم کی راہ پر چلنا جائز نہیں ہے۔

صدر احمدی نژاد کا یہ بیان ایرانی حکام اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے نمائندوں کے درمیان اگلے ہفتے ہونے والے مذاکرات سے قبل سامنے آیا ہے۔

آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے امید ظاہر کی ہے وہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاملے پر کسی اتفاق پر پہنچ جائیں گے اور انہیں بارشین کی نیوکلیئر تنصیبات کے معائنے کی اجازت مل جائے گی۔