.

بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے لیے باغیوں کو اسلحہ دیا جا سکتا ہے امریکی سفیر

شامی حکومت پر باغیوں پر اسکڈ میزائل فائر کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے لیے امریکی سفیر رابرٹ فورڈ نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے میں مدد کی صورت میں امریکا شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کر سکتا ہے۔

انھوں نے مراکیش میں دوستان شام ممالک کے اجلاس کے موقع پر العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم شامی بحران کے سیاسی حل کے حق میں ہیں۔اگر ہم نے یہ دیکھا کہ شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے سے سیاسی حل میں مدد مل سکتی ہے تو ہم ایسا کریں گے''۔

اسکڈ میزائل

درایں اثناء امریکی حکام ہی کے حوالے سے یہ بھی اطلاع سامنے آئی ہے کہ شامی حکومت نے باغی جنگجوؤں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ان پر اسکڈ میزائل برسائے ہیں۔

ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''شام کے اندر ہی اسکڈ گرے ہیں''۔ بدھ کو شام کے شمال مغربی علاقے میں موجود اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ ان دھماکوں کی آوازیں پندرہ کلومیٹر دور تک سنی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا کہ ''ہم اب میزائل چلائے جانے کی خبریں ملاحظہ کر رہے ہیں''۔لیکن امریکی ترجمان نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے شام میں کس قسم کے میزائل فائر کیے جا رہے ہیں۔

تاہم ایک امریکی عہدے دار نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس اسٹوری کی تصدیق کی ہے جس میں شامی رجیم کی جانب سے مخالفین پر سوویت ساختہ اسکڈ میزائل برسانے کی اطلاع دی گئی تھی۔فوری طور پر ان میزائل سے جانوں کے ضیاع کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسکڈ میزائل سابق سوویت یونین کے دور میں عراق اور شام سمیت مختلف ممالک کو فروخت کیے گئے تھے۔صدام حسین کے دور حکومت میں پہلی خلیجی جنگ کے دوران عراق نے اسرائیل کی جانب یہ ان گائیڈڈ بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔ اس میزائل کی رینج دوسو کلومیٹر تک ہے۔

شامی باغیوں پر اسکڈ میزائل فائر کیے جانے کی اطلاع سامنے آنے سے قبل گذشتہ روز انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے شامی فوج پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ شہری علاقوں میں آتش گیر ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ تنظیم نے شامی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے ہتھیاروں کا استعمال ترک کر دیں جن کے نتیجے میں انسانی مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ''سوویت دور سے تعلق رکھنے والے ایسے ہتھیار دو قسم کے ہیں۔ ان میں سے ایک کو پھوڑنے سے فٹ بال کے میدان کے برابر علاقے میں اڑتالیس چھوٹے چھوٹے آتش گیر بم پھیل جاتے ہیں اور وہ جہاں گرتے ہیں وہاں آگ لگ جاتی ہے اور بڑی تباہی ہوتی ہے''۔

ایسے ہتھیاروں میں نیپام، تھرمائٹ یا سفید فاسفورس پر مشتمل آتش گیر مواد ہوتا ہے اور ان کا ہدف بننے والی عمارت میں آگ لگ جاتی ہے اور نشانہ بننے والے انسانوں کو شدید زخم آتے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے عینی شاہدین سے انٹرویوز، شامی صدر کے مخالف کارکنان کی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کے جائزے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شامی فوج شہریوں کے خلاف ان خطرناک ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہے۔اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دمشق کے نواح میں واقع دو قصبوں، شمالی صوبہ ادلب میں واقع ایک شہر اور وسطی صوبہ حمص کے ایک قصبے میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران شامی فوج نے یہ خطرناک ہتھیار استعمال کیے ہیں۔