.

شامی رجیم کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے نیٹو سربراہ

باغی جنگجوؤں پر اسکڈ میزائلوں کے حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سربراہ آندرس فوگ راسموسین نے پیشین گوئی کی ہے کہ شامی رجیم کا دھڑن تختہ ہونے کے قریب ہے۔ انھوں نے صدر بشار الاسد کی فوج کے باغیوں پر اسکڈ میزائلوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ''میرے خیال میں دمشق میں بر سر اقتدار رجیم کا خاتمہ قریب ہے اور یہ اب کچھ وقت ہی کا معاملہ رہ گیا ہے''۔انھوں نے کہا کہ شامی صدر کو عوام کی امنگوں کے مطابق عمل شروع کرنا چاہیے۔

مسٹر راسموسین نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں جاری تشدد کا خاتمہ کرے اور بر سر زمین صورت حال کا ادراک کرے۔ انھوں نے امریکی حکام کی اس رپورٹ کی تصدیق کی کہ نیٹو اتحاد کو شام کے اندر اسی ہفتے مختصر فاصلے کے ان گائیڈڈ اسکڈ ٹائپ میزائل داغے جانے کا پتا چلا ہے۔

انھوں نے کہا: ''اس طرح کے غیر امتیازی ہتھیاروں کے استعمال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شامی عوام کی زندگیوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ یہ بہت ہی غیر ذمے دارانہ اقدام ہے اور میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں''۔

راسموسین کا یہ بیان روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف کے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے کہ شام میں باغی جنگجوؤں نے بیرونی امداد ملنے کے بعد اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی 'اترتاس' نے نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حزب اختلاف کامیابی کی تیاریوں میں ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ''آپ کو حقائق پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ شامی حکومت کا ملک کے بڑے علاقوں پر کنٹرول ختم ہوتا جا رہا ہے''۔

امریکی حکام اور باغی جنگجوؤں نے گذشتہ روز شامی فوج پر اسکڈ میزائل داغنے کا الزام عاید کیا تھا لیکن شام کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں ان الزامات کو افواہیں قرار دے کر ان کی تردید کی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان کے مطابق: ''وزارت خارجہ ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ شامی فوج نے اسکڈ میزائل فائر کیے ہیں''۔