.

ایران کے ساتھ جنوری میں جوہری سمجھوتے کا امکان ہے آئی اے ای اے

جوہری ہتھیاروں کی تحقیق سے متعلق مذاکرات پر پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ اس کا ایران کے ساتھ جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے آیندہ ماہ سمجھوتا طے پا جائے گا۔ اس کے تحت وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق تحقیق کے بارے میں قابل اعتبار ثبوت مہیا کرے گا۔



یہ بات آئی اے ای اے کے چیف اسلحہ انسپکٹر ہرمین نیکارتس نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔انھوں نے اسے ایک ''اچھی''ملاقات قرار دیا ہے اور کہا کہ ایران مجوزہ ڈیل کے تحت عالمی ادارے کو پارچین کی جوہری تنصیب تک رسائی دے گا جہاں اس نے مبینہ طور پر جوہری تجربہ کیا تھا۔

مسٹر نیکارتس نے تہران سے واپسی پر ویانا کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے سولہ جنوری کو دوبارہ ملاقات سے اتفاق کیا ہے۔ تب ہم سمجھوتے کو حتمی شکل دیں گے اور اس کے فوری بعد اس کا نفاذ کریں گے''۔انھوں نے مزید کہا کہ پارچین کا معائنہ بھی اس سمجھوتے کا حصہ ہو گا۔

اس سے پہلے آئی اے ای اے میں متعین ایرانی سفیر علی اصغر سلطانیہ نے بھی اس ملاقات کو تعمیری اور مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم انھوں نے اس کی کوئی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔

واضح رہے کہ آئی اے ای اے ایران سے اس کے مبینہ جوہری تجربات سے متعلق تفصیل مہیا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس نے اپنی 2011ء کی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا تھا کہ ایران نے پارچین میں ایک بڑے کنٹینر میں جوہری ہتھیار کا ابتدائی تجربہ کیا تھا لیکن ایران اس کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پُرامن مقاصد کے لیے ہے اوروہ جوہری بم تیار نہیں کرنا چاہتا۔

یادرہے کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکی یا امانو نے نومبر 2011ء میں جاری کردہ اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور ڈیزائن کے قریب پہنچ چکا ہے،وہ خفیہ طور پر ایسے تجربات کر رہا ہے جن کا واحد مقصد جوہری ہتھیار تیار کر نا ہی نظر آتا ہے لیکن ایران نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ یہ امریکا کی جانب سے فراہم کردہ من گھڑت انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہے۔

لیکن آئی اے ای اے نے ایران کے اس موقف کو مسترد کر دیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اس نے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی مدد سے یہ رپورٹ تیار کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں کو انجام دے رہا ہے۔ ان شواہد میں بس کے حجم کے لوہے کے ایک کنٹینر کی بھی موجودگی کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اس کو مبینہ طور پرجوہری تجربات کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل کی گئی تھیں۔