.

ترکی کو امریکی میزائل شکن پٹریاٹ نظام کی فراہمی

جرمنی اور نیدرلینڈ بھی ترکی کو پٹریاٹ نظام فراہم کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا، ترکی کو شام کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں سے ترک سرحد کی حفاظت میں مدد کے لیے دو میزائل شکن نظام پیٹریاٹ اور 400 فوجی بھیج رہا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے کہا ہے کہ وزیر دفاع لیون پنیٹا نے جمعہ کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس کے بموجب واشنگٹن کے اہم اتحادی کو مذکورہ فوجی تعاون پیش کیا جائے گا۔ لیون پنیٹا جمعہ کے روز ہی غیر علانیہ دورے پر افغانستان سے ترکی پہنچے ہیں۔

جارج لٹل نے کہا کہ میزائل شکن پیٹریاٹ آئندہ ہفتوں کے دوران ترکی میں نصب کر دیئے جائیں گے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس علاقے میں لگایا جائے گا۔

فضائیہ کے ایک مرکز انسرلک پر اپنے مختصر قیام کے دوران وزیر دفاع پنیٹا نےکہا کہ امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے ترکی کو اپنے دفاع میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم میزائل شکن نظام کے ذریعے ترکی کی مدد کر سکتے ہیں جس سے وہ شام کی طرف سے لاحق خطرات کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتا ہے۔

جرمنی اور نیدرلینڈ بھی ترکی کو پٹریاٹ نظام فراہم کر رہے ہیں، جس کا انتظام نیٹو کے ہاتھ میں ہو گا۔

اس ماہ کے شروع میں نیٹو نے انقرہ کی جانب سے سرحد پار سے آنے والے گولوں اور راکٹوں پر اپنی تشویش کے اظہار کے بعد ترکی میں میزائل شکن نظام نصب کرنے کی منظوری دی تھی۔ ترکی کو خدشہ ہے کہ شام سرحد کے قریب باغیوں کے تعاقب میں ان کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جو اس کی سرحدی بستیوں پر بھی گر سکتے ہیں۔