.

تیونس کے سابق صدر کا داماد سیشل جزائر سے گرفتار

صخر الماطری کو عدلیہ نے اشتہاری قرار دے رکھا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کے وزیر قانون نور الدین البحیری نے سابق مفرور صدر زین العابدین بن علی کے داماد صخر الماطری کو بحر ہند کے مشہور سیاحتی مقام سیشل کے ایک جزیرے سے گرفتار کرنے کی تصدیق ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الماطری کی گرفتاری کی خبر لوٹے گئے مال کی واپسی کی موضوع پر دارلحکومت میں ہونے والی کانفرنس میں بریک ہوئی۔ تیونس کی متعدد عدالتوں نے صخر الماطری کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ مقدمات کی عدم پیروی کی وجہ انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا۔

صخر الماطری بن علی کی چہیتی اہلیہ لیلی الطرابلسی کے بطن سے پیدا ہونے والی صاحبزادی نسرین کے شوہر ہیں۔ وہ اپنے سسر کا اقتدار ختم ہونے سے پہلے تیونس سے فرار ہو گئے تھے۔ صرف تیس برس کی عمر میں انہوں نے کاروباری اور سیاسی محاذوں پر نمایاں کامیابیاں سمیٹیں۔ وہ صدارتی مشیران کی کونسل کے رکن بھی تھے۔ انہیں اپنے سسر بن علی کا سیاسی خلیفہ بھی سمجھا جاتا تھا اور میڈیا میں ایسی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ صخر الماطری اپنی ساس لیلی الطرابلسی کی خاموش حمایت سے صدر بن علی کا تختہ الٹنے کے خواہشمند تھے۔

صخر الماطری نے حکمران خاندان کا داماد ہونے کی حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے ریئل اسٹیٹ، سیاحت، غذائی صنعت، پبلک گیس اسٹینشز اور کئی ارب ڈالر کا پیڈ اپ سرمائے کی حامل چار تعمیراتی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔

ان کی تعمیراتی کمپنیوں کو سرکاری منصوبوں کے ٹھیکوں سمیت نجی شعبے میں یکساں طور پر پذایرائی حاصل تھی۔ صخر الماطری کے والد اور بن علی کے سمدھی صدر حبیب بو رقیبہ کے دور میں فوج کے سربراہ تھے اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اسے بعد میں معاف کر دیا گیا۔ الماطری خاندان سابق صدر سے رشتہ داری سے پہلے بھی تیونس میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔