.

شام سے متعلق بوگدانوف کے بیان سے ماسکو کا اظہار لاتعلقی

بشار الاسد منظر سے ہٹنے والے ہیں: نیٹو جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روسی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز نائب وزیر خارجہ کے اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے جس میں میخائل بوگدانوف نے موقف اختیار کیا تھا کہ "شامی صدر بشار الاسد ملک پر اپنا کنٹرول کھو رہے ہیں اور حزب اختلاف کی کامیابی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔" بواگدانوف کے اس بیان کو شام کے بارے میں ماسکو کے لب و لہجہ میں نمایاں تبدیلی سے تعبیر کیا گیا تھا۔

ماسکو وزارت خارجہ کے ترجمان ایلگزینڈر لوکیشوچ نے میخائل بوگدانوف کے شام سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں [بوگدانوف] نے گزشتہ دنوں کسی صحافی سے خصوصی گفتگو نہیں کی۔

مسٹر لوکیشوچ نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں شریک مسٹر بوگدانوف نے روس کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ماسکو کے پاس شامی تنازعے کے سیاسی حل کے علاوہ کوئی اور متبادل موجود ہیں۔' روسی ترجمان نے اپنے بیان میں اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ کیا بوگدانوف کو اس بات علم نہیں تھا کہ ان کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اسے روسی خبر رساں ادارے جاری کریں گے؟

ایک دوسری پیش رفت میں معاہدہ شمالی اوقیانوس 'نیٹو' کی عسکری کمیٹی کے سربراہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ اب ترجیحی طور پر ایسا لگتا ہے کہ بشار الاسد مزید اقتدار میں نہیں رہ پائیں گے۔

تنظیم میں شامل ڈچ جنرل نوڈ پارٹلز نے نیٹو کے ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں شامی لڑائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر اسد منظر نامے سے ہٹ جائیں گے، تاہم انہوں نے بشار الاسد کی رخصتی کا کوئی حتمی ٹائم ٹیبل دینے سے احتراز کیا۔