.

ایران مداخلت کے ذریعے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دے سُنی عالم دین

شامی بحران کا ٹھوس حل تلاش کر کے تہران اپنی ساکھ بچائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشارالاسد کی اندھی ایرانی حمایت کے خلاف ملک کے اندر بھی صدائے احتجاج بلند ہونے لگی ہے۔ اس احتجاج میں سب سے بلند آہنگ ایران کے سرکردہ سنی عالم دین مولانا عبدالحمید کا بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ ہے۔

انہوں نے صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے تہران حکومت پر زور دیا کہ وہ شام میں بے گناہ لوگوں کے کشت و خون کا سلسلہ بند کرانے کے لیے صدر اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مداخلت کرے۔ مولانا عبدالمجید نے کہا کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث نہتے شہری جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ ایران اخلاقی طور پر پابند ہے کہ وہ شام میں قیام امن کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ عالمی اور اسلامی سطح پر ایسا کرنا تہران کی گرتی ساکھ بچانے کے لئے ضروری ہے۔



مولانا عبدالحمید کا کہنا تھا کہ میں اپنی حکومت کو یہ مخلصانہ مشورہ دے رہا ہوں کہ وہ شام میں مداخلت کرے اور بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دے۔ شامی باغیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرے کیونکہ اب شام کا بیشتر علاقہ باغیوں کے قبضے میں آ چکا ہے۔ عالمی برادری شامی اپوزیشن اتحاد کو ملک کی نمائندہ قوت کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ روس جیسے شام نواز ملک نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ بشار الاسد کی اقتدار سے علاحدگی نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔

ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے مقتدر لوگوں سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ شام کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ تہران کو بھی یہ یقین کر لینا چاہیے کہ بشار الاسد کے دن گنے جا چکے ہیں۔ انہیں جلد از جلد اقتدار سے ہٹانے اور شام کو خون کے دریا سے نکالنے کے لیے ہماری حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔



ایرانی عالم دین نے اپنی حکومت کی اسد نواز پالیسیوں کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تہران، بشار الاسد کو بچانے کی کوشش کر کے عالمی اور اسلامی سطح پر اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کل جب صدر بشار الاسد اقتدار سے ہٹا دیے جائیں گے تو ایران دنیا کو کیا منہ دکھائے گا۔ اس لیے حکومت کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اسلامی دنیا میں بھی خود کو بدنام ہونے سے بچائے۔ اگر تہران فوری مداخلت کر کے صدر بشارالاسد کو اقتدار سے علاحدہ کرا دیتا ہے تو یہ اقدام عرب اور اسلامی ممالک میں ایران کی عزت افزائی کا موجب بنے گا۔