.

جوناتھن پاکستان اور عرب نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں معلومات جمع کرتا رہا

اسرائیل کی خاطر جاسوسی کا مرتکب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کی سینڑل انٹلیجنس ایجنسی 'سی آئی اے' کی حال ہی میں جاری کردہ دستاویزات کے مطابق اسرائیل کے لئے جاسوسی کی پاداش میں عمر قید کی سزا کاٹنے والا امریکی یہودی جوناتھن پولاڈ جاسوس عرب ملکوں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معلومات جمع کرتا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں سی آئی اے کی جانب سے مشتہر کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے امریکی بحریہ کے سابقہ تجزیہ کار کے مالی مسائل اور عجیب و غریب عادات و اطوار سے متعلق ناقابل یقین گوشے سامنے آئے ہیں۔ جوناتھن کے بہ قول ایک دن آئرش ریپبلک آرمی نے انہیں بیگم سمیت اغوا کر لیا تھا۔

سن 1985ء میں پولاڈ امریکا میں اسرائیلی سفارتخانے میں پناہ لینے کی کوشش کے وقت گرفتار ہوا۔ اسے 1987ء میں اسرائیل کو دفاعی رازوں سے متعلق خفیہ دستاویزات دینے کی پاداش میں عمر قید سنائی گئی۔

سی آئی اے کی جانب سے کلاسیفائیڈ دستاویزات کو مشتہر کئے جانے کے بعد جوناتھن کے تفتیش کاروں دیئے گئے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پاکستان اور عرب ملکوں کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔

گمان کیا جاتا ہے کہ جوناتھن پولاڈ نے تیونس میں تنظیم آزادی فلسطین کے دفتر کی نشاندہی کی۔ انہوں نے 1985ء میں اسرائیلی فضائی حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کی۔ انہوں نے امریکا کے سامنے یہ گمراہ کن تجزیہ بھی پیش کیا تھا کہ شام، گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل تسلط سے آزاد کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

جوناتھن نے سن 1995ء میں اسرائیلی شہریت حاصل کی جس کے بعد تل ابیب نے انہیں اپنا جاسوس ماننے کا پہلی مرتبہ اعتراف کیا۔ اس وقت سے تل ابیب جوناتھن کی امریکا سے رہائی کے لئے مختلف فورم پر کوشاں ہے۔