.

کویتپارلیمان کا افتتاحی اجلاس،امیرکویت کا ناقدین کو انتباہ

بدامنی اورافراتفری قبول نہیں کی جائے گی: شیخ صباح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امیرکویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے نومنتخب مجلس الامہ (پارلیمان) کا افتتاح کردیا ہے۔انھوں نے اپنے مخالفین اور ناقدین کو خبردار کیا ہے کہ سڑکوں پر بدامنی اور افراتفری کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

شیخ صباح الاحمد الصباح نے اتوار کو پارلیمان کے نئے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ بہ ذات خود آزادیٔ اظہار اور مثبت تنقید کے حامی ہیں لیکن حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افراتفری ،قانون کی خلاف ورزی اور بے سمت سیاسی مباحث کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

انھوں نے نو منتخب ارکان پرزوردیا کہ وہ غیر مفید بحث و مباحثے سے گریز کریں ،اقتدار کی حدود کا احترام کریں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

کویت کی نئی پارلیمان یکم دسمبر کو منعقدہ انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی۔نومنتخب مجلس الامہ میں سترہ ارکان کا تعلق اہل تشیع کمیونٹی سے ہے اور تین خواتین ہیں۔پچاس ارکان پر مشتمل ایوان میں نصف سے زیادہ پارلیمانی سیاست میں نووارد ہیں۔ تحلیل شدہ پارلیمان میں اسلامی جماعتوں اور سابق حزب مخالف کی پچاس میں سے چونتیس نشستیں تھیں۔اہل سنت اور سلفی جماعتوں کی تئیس نشستیں تھیں۔

حزب اختلاف نے انتخابی قوانین میں تبدیلی کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ کردیا تھا اور اس نے الزام عاید کیا تھا کہ قانون میں یہ تبدیلی حکومت کے حامی ارکان کو جتوانے کے لیے کی گئی تھی۔

حکومت نے نئے انتخابی قانون کے تحت رجسٹرڈ ووٹر کے ووٹوں کی تعداد چار سے کم کرکے ایک کردی تھی اور امیر کویت نے اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ اس سے ناقص نظام درست ہوگا اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔اس سے پہلے ایک ووٹ چار ووٹ ڈال سکتا تھا۔

حزب اختلاف نے اس قانون کے خاتمے پر کڑی تنقید کی تھی اور اس کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کیے گئے تھے۔حزب اختلاف کے حامی کارکنان نے گذشتہ روز بھی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے پارلیمان کی جانب ریلی لے کر جانے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے انھیں روک دیا تھا۔