.

کابل طالبان کا امریکی کمپنی پر خودکش کار بم حملہ، 2 افغان ہلاک

صوبہ ننگرہار میں بم دھماکا، 10 کم سن بچیاں جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکا کی ایک تعمیراتی کمپنی کے دفتر پر خودکش کاربم حملے کے نتیجے میں دو افغان شہری ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ طالبان مزاحمت کاروں نے اس حملےکی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ اس خودکش حملے سے چند گھنٹے قبل مشرقی صوبہ ننگرہار میں بم دھماکے کے نتیجے میں دس بچیاں ماری گئی ہیں۔ ان کی عمریں نو اور گیارہ سال کے درمیان تھیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کار میں سوار خودکش بمبار نے ایک اہم امریکی کمپنی کو نشانہ بنایا ہے۔یہ کمپنی سکیورٹی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تھی اور کافی عرصے سے ہم اس کی نگرانی کررہے تھے۔آج (سوموار کو) ہم اس کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں''۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے کابل میں امریکی کمپنی کے دفاتر پر خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں دو افغان شہریوں کی ہلاکت اور پندرہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ان میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

کابل کے پولیس سربراہ جنرل ایوب سالانگی کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد ایک چھوٹے ٹرک میں نصب کیا گیا تھا۔اس خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں امریکی کمپنی کے دفاتر کی عمارت جزوی طور پر تباہ اور بیرونی دیوار ہوگئی ہے۔

طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والی امریکی کمپنی کا نام کونٹریک انٹرنیشنل ہے۔یہ افغانستان میں فوجی اڈوں پر ایندھن کی ذخیرہ گاہوں کی تعمیر کا کام کرتی ہے اور اس کے صدر دفاتر ورجینیا (امریکا) میں قائم ہیں۔

نیٹو کی قیادت میں انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل لیس کیرول نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ کابل میں اس کمپنی کے دفاتر امریکی فوج کے اڈے کیمپ فونیکس کے نواح میں واقع ہیں اور بظاہر حملہ ایساف فوجیوں پر نہیں کیا گیا تھا۔

قبل ازیں سوموار کو مشرقی صوبہ ننگرہار میں ہوئے بم دھماکے کے بارے میں فوری طور پر کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون سے دھماکا خیز مواد کے پھٹنے کے نتیجے میں ہوا ہے۔علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ بم ممکنہ طور پر طالبان مزاحمت کاروں نے نصب کیا ہو گا یا یہ بارودی سرنگ کا دھماکا ہو سکتا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان احمد ضیاء عبدالزئی نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی بچیاں وہاں لکڑیاں چن رہی تھیں اور انھوں نے ممکنہ طور پر وہاں زمین میں نصب راکٹ کے ایک ٹکڑے کو اکھاڑنے کی کوشش کی تو وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ انھوں نے دھماکے میں دس بچیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعہ میں دو بچیاں شدید زخمی ہیں۔