.

سابق امام کعبہ الشیخ محمد السبیل داعی اجل کو لبیک کہہ گئے

نماز جنازہ بیت اللہ الحرام میں ادا کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سابق امام الحرم المکی الشریف الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل مختصر علالت کے بعد پیر کی شام داعی اجل کو لیبک کہہ گئے۔ ان کی نماز جنازہ منگل کو مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی جس کے بعد انہیں العدل قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق مرحوم السبیل 1345ھ کو قصیم ریجن کے البکیریہ شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنے والد الشیخ عبدالرحمن الکریدیس کے پاس قرآن کریم البکیریہ شہر میں حفظ کیا جبکہ تجوید کی تعلیم الشیخ سعدی یاسین رحمہ اللہ کے پاس زانوئے تلمذ طے کر کے حاصل کی۔

وہ البکیریہ شہر کے مشہور علماء الشیخ محمد المقبل، اپنے بھائی الشیخ عبدالعزیز البسیل کے پاس زیر تعلیم رہے۔ بعد میں انہوں نے تعلیم کا سلسلہ قصیم میں چیف جج الشیخ عبداللہ بن محمد احمد بن حمید کے ہاں رکھا۔

امام کعبہ الشیخ السبیل مرحوم ملک کی مختلف مساجد اور تعلیمی اداروں میں توحید، تفسیر، فقہ اور اصول فقہ سمیت عربی زبان و ادب کی تعلیم دیتے رہے۔ وہ سنہ 1367ھ کو البکیریہ کے پرائمری سکول میں استاد مقرر ہوئے۔ سنہ 1373ھ میں وہ بریدہ میں کے علمی انسٹی ٹیوٹ میں استاد مقرر ہوئے۔

سن 1385ھ میں انہیں شاہی فرمان کے تحت مسجد الحرام میں خطیب مقرر کیا گیا۔ سنہ 1390ھ میں انہیں مسجد الحرام کے دینی امور کی نگرانی کا فریضہ سونپا گیا۔ سن 1393ھ میں وہ دینی امور کے مسئول اور مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے صدارتی سیکرٹریٹ کے سربراہ بنے۔ انہیں سن 1422ھ میں خود ان کی درخواست پر ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا گیا۔ وہ رابطہ عالم اسلامی کی فقہ ریسرچ اور سپریم علماء کونسل کے رکن رکین بھی تھے۔

مرحوم نے اپنے پیچھے متعدد تالیفات علمی ورثے کے طور پر چھوڑی ہیں جن سے لوگ رہتی دینا تک استفادہ کرتے رہیں گے۔