.

فیس بک ایران میں عوام کے لئے ممنوع، سپریم لیڈر کے لئے مسموح

دوسروں کو نصحیت خود میاں فصیحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران میں سماجی رابطے کی متعدد ویب سائٹس بشمول 'فیس بک' اور 'ٹیوٹر' پر پابندی عاید ہے لیکن سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کا ذاتی دفتر دھڑلے کے ساتھ فیس بک کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ پابندی کی وجہ سے ان سائٹس کو صرف 'پراکسی' کے ذریعے ہی ایران میں دیکھا جا سکتا ہے۔



قدامت پسند ایرانی حلقوں کے ترجمان فارسی نیوز پورٹل 'دیجریان' کے مطابق سرکاری طور پر 'فیس بک' کے استعمال پر پابندی عائد ہے اور حکومت نے سماجی رابطے کے مقبول عام پورٹل کو تہران کے خلاف مخالف طاقتوں کا 'جنگی ہتھیار' قرار دے رکھا ہے۔ تاہم پابندی کے علی الرغم مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ سمیت کئی اعلی عہدیدار خود فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے 13 دسمبر کو اپنا فیس بک اکاؤنٹ اپ ڈیٹ کیا ہے۔



فیس بک کے علاوہ مرشد اعلیٰ 'ٹیوٹر' اور 'انسٹا گرام' فوٹو شیئرنگ سماجی ویب سائٹس بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کی سائبر سرگرمیوں کو مانیٹڑ کرنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی سرکردہ لیڈر انٹرنیٹ پر عربی، انگریزی، فارسی اور دیگر زبانوں میں بڑے پیمانے پر سرگرم رہے ہیں۔



فیس بک پر سپریم لیڈر کے نام سے بنائے گئے صفحے کو چند ماہ میں تین ہزار افراد نے پسند [لائیک] کیا ہے۔ ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے زیادہ تر بیانات ’تہران نواز‘ ہوتے ہیں، تاہم غیر جانبداری کا بھرم رکھنے کے لئے محتاط لب و لہجے کا حامل تنقیدی مواد بھی موجود ہیں۔



ایران میں کئی برسوں سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی ہے تاہم سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کےدوران یہ پابندیاں مزید سخت کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد ٹیوٹر اور فیس بک کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تہران پولیس چیف اسماعیل احمدی مقدم کے بہ قول: "سماجی رابطے کی ویب سائٹس غیر منظم مجرموں اور غیر ملکی اشاروں پر کام کرنے والے سازشی عناصر کے ہاتھوں میں ایک آلہ ہے جسے تہران کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے'۔