.

ایرانی ایجنڈے کی تکمیل، جنوبی یمن میں 6500 نوجوانوں کی بھرتی

حوثیوں کی تہران سے مالی اور فوجی مدد بھی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جنوبی یمن موومنٹ کے رہنما اور نیشنل کانفرنس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ محمد علی احمد نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک سے وابستہ رہنماؤں کی بڑی تعداد امداد مانگے ایران جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنوبی یمن کو فرقہ وارانہ لڑائی کا میدان جنگ بنانا چاہتا ہے۔

کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں محمد علی احمد نے بتایا کہ ایرانی امداد صرف شمالی یمن میں شیعہ مسلک حوثی تحریک تک محدود نہیں بلکہ "تہران جنوبی یمن موومنٹ سے 6500 نوجوانوں کو بھرتی کر کے تربیت اور تعلیم فراہم کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔"

کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں فوجی کمانڈر میجر جنرل علی محسن صالح الاحمر کا ایک تہنیتی پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے انقلاب کی حامی یوتھ فورس کی تحسین کی تھی، لیکن بیان کے بعد اس کے خلاف اجلاس ہی میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

محمد علی احمد نے جنرل صالح الاحمر کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی ناکامی پر سب سے زیادہ شرطیں جنوبی یمن کی سیاسی جماعتوں نے لگائیں۔ اس خطے میں بحران کی اصل وجہ ماضی کی وہ قیادت ہے کہ جو اپنی ناک سے آگے اور مفادات کے سوا کچھ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ان کا اشارہ جنوبی یمن کے سابق صدر علی سالم البیض کی جانب تھا جو ایران سے امداد اور ڈکٹیشن لیتے رہے ہیں۔