.

بنغازی میں امریکی قونصل خانے کی سیکیورٹی انتہائی ناکافی تھی رپورٹ

ہلیری کلنٹن نے رپورٹ میں بیان تجاویز مان لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے رواں برس ستمبر میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے سے متعلق تشکیل دیے گئے خودمختار پینل کی رپورٹ میں سامنے لائے جانے والے حقائق اور تجاویز کو قبول کیا ہے۔

امسال 11 ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیونز اور سفارتی عملے میں شامل تین دیگر امریکی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کی تفتیش اور مستقبل میں ایسے حملوں سے تحفظ کے لیے تجاویز مرتب کرنے کی غرض سے ایک خودمختار پینل قائم کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی جانب سے کانگریشنل کمیٹی کو تحریر کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس پینل کی جانب سے سامنے لائے جانے والے تمام حقائق کو قبول کرتے ہوئے، اس کی تجاویز کو ’فوری اور مکمل‘ نافذ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانوں کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے سینکڑوں امریکی کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے۔ اپنے اس مراسلے میں کلنٹن نے مزید سرمایہ بھی مانگا ہے جبکہ اس سلسلے میں وزارت خارجہ میں ایک نئے عہدیدار کا تقرر بھی عمل میں لایا جائے گا، جو دنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانوں کی سلامتی کے امور کی نگرانی کرے گا۔

واضح رہے کہ منگل کے روز بن غازی حملے سے متعلق تحقیقاتی پیبل نے اپنی رپورٹ میں تجاویز دیں، جن میں بتایا گیا کہ کس طرح مختلف ممالک میں قائم امریکی سفارت خانوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ خصوصی طور پر حساس علاقوں میں مقامی حکومت کی جانب سے دی جانے والی سکیورٹی سے زیادہ امریکا کو اپنے سکیورٹی عملے کی خدمات حاصل کرنا چاہیئں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہےکہ امریکی وزارت دفاع سفارت خانوں کی سکیورٹی کے لیے ایک اعلیٰ عہدیدار کی تعیناتی عمل میں لائیں، جو بیرون ممالک قائم سفارت خانوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے۔ اس رپورٹ میں وزارت خارجہ کو مشورہ دیا گیا ہےکہ وہ آزاد ماہرین کی خدمات حاصل کرے، جو وزارت خارجہ کو سفارت خانوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے بہترین تجاویز دے سکیں اور حساس علاقوں میں قائم سفارت خانوں کی نشاندہی کر سکیں جبکہ ان افراد میں فوجی، سلامتی اور انسانی بنیادوں پر امداد کے شعبوں کے ماہرین شامل ہوں۔

اس رپورٹ میں وزارت خارجہ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حساس علاقوں میں قائم عارضی سفارت خانوں کی سلامتی کے لیے بھی سکیورٹی اہلکاروں کی ایک کم از کم سطح کا تعین ضرور کرے جبکہ کسی ناخوشگوار صورت حال میں فوری ردعمل کے لیے بھی اقدامات کا تعین کر کے رکھے۔