.

ڈرائیونگ کی پرچارک سعودی دوشیزہ کو دبئی سے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا

یو اے ای ڈرائیونگ لائسنس ملنے پر اظہار مسرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ ڈرائیونگ کے بعد جیل کی ہوا کھانے والی دوشیزہ منال الشریف نے متحدہ عرب امارات [دبئی] سے ڈرائیونگ کا امتحان پاس کرنے پر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ منال نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد سعودی عرب میں ڈرائیونگ کے لئے لائسنس حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گی۔

منال الشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹویٹر' اکاؤنٹ پر لائسنس ہاتھ میں تھامے تصویر اپ لوڈ کی، جس کے ساتھ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ 'میں نے یو اے ای سے ڈرائیونگ کا لائسنس حاصل کر لیا۔' ان کی اس تصویر پر ٹیوٹر استعمال کرنے والوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی ازخود گاڑی چلانے کا تنازعہ کئی سال سے زیر بحث چلا آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود خواتین کی ڈرائیونگ کے اکا دکا واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ماضی میں ساحلی شہر الخبر میں پیش آیا جب مسلسل تین روز تک ایک خاتون کو بلا خوف و خطر کار چلاتے دیکھا گیا۔

منال الشریف نامی نے اپنے بھائی، بھاوج اور ان کے بچوں کو خود کار ڈرائیو کر کے ساحلی شہر الخبر کی سیر کرائی۔ بتیس سالہ منال کا کہنا ہے کہ اس نے ڈرائیونگ کا تجربہ امریکا میں اس وقت حاصل کیا تھا جب وہ وہاں زیر تعلیم تھی۔

ذرائع کے مطابق مسلسل تین روز کی ڈرائیونگ کے بعد منال الشریف کو الخبر شہر میں شعبہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اہلکاروں نے اس کی کار کو روکا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے روکے جانے کے بعد کیا ان کار قبضے میں لی گئی؟ حکام کے اشارے پر منال نے نہ صرف اپنی گاڑی روکی بلکہ ان کی ہدایات غور سے سنیں اور کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی فرار کی کوشش کی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ کا معاملہ علماء اور دیگر طبقات کے درمیان کئی سال سے متنازعہ چلا آ رہا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ سے معاشرے میں برائیاں جنم لیتی اور فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی خواتین اونٹوں اور گوڑوں کی خود سواری کیا کرتی تھیں۔ ان پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ نیز خواتین کی ڈرائیونگ کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ سماج سے ہے اور اس کی ممانعت کے بارے میں کوئی نصِ شرعی بھی موجود نہیں۔