.

روس کو شام سے متعلق بشارالاسد سے زیادہ تشویش لاحق ہےپوتین

ہم شام میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس کے صدر ولادی میر پوتین کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو شام کے بارے میں صدر بشارالاسد سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔

انھوں نے یہ بات ماسکو میں اپنی سالانہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ماسکو اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کے کسی حل کے تحت سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہو۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''ہمیں اسد رجیم کے مستقل کے حوالے سے تشویش لاحق نہیں ہے۔وہاں جو کچھ رونما ہورہا ہے،ہم اس کو سمجھتے ہیں۔ہمیں تو صرف یہ تشویش لاحق ہےکہ وہاں اس کے بعد کیا ہوگا؟ہم موجودہ صورت حال کی طرح کی صورت حال نہیں چاہتے''۔

انھوں نے کہا کہ'' روس بشارالاسد کی بجائے شامی عوام کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے۔ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسد خاندان گذشتہ چالیس سال سے برسر اقتدار ہے،اس لیے عوام تبدیلی چاہتے ہیں"۔صدر پوتین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شامی حزب اختلاف اقتدار میں آنے کے بعد اپنے مدمقابل فورسز کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی، اس لیے تشدد ختم نہیں ہوگا۔

پوتین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس اسد انتظامیہ کی حمایت نہیں کرتا لیکن روس کو خدشہ ہے کہ شام کے ناگوار حالات سے اس پورے خطے کے حالات پر ناگوار اثر پڑ سکتا ہے۔ پوتین نے لیبیا کے واقعات کی یاد دلائی اور کہا کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے لیبیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے نتیجے میں وہاں افراتفری کا دور دورہ شروع ہوا تھا۔ یوں بن غازی میں امریکا کے سفارت خانہ پر دھاوا بول دیا گیا جس کے نتیجے میں امریکی سفیر ہلاک ہو گئے۔ صدر روس نے نشاندہی کی کہ روس نہیں چاہتا کہ شام کے حالات لیبیا ایسی صورت اختیار کریں۔

صدر پوتین نے یہ بات زوردے کر کہی کہ روس شام میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ چاہتا ہے۔روسی صدر کے اس بیان سے واضح ہےکہ اب انھوں نے شام کی زمینی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے بشارالاسد کی حمایت سے دستکش ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اے ایف پی نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے:''ہمارا موقف کیا ہے؟ہم کسی بھی قیمت پر اسد رجیم کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے لیکن اس سے پہلے یہ ضروری ہے کہ شامی آپس میں مل بیٹھ کر یہ اتفاق کریں کہ انھیں اس صورت حال کے بعد کیسے رہنا چاہیے۔اس صورت ہی میں ہم موجودہ صورت حال کو تبدیل کرسکتے ہیں''۔

روسی صدر نے کہا کہ ''روس کی جانب سے ڈائیلاگ کی اپیل کا یہ مطلب ہے کہ مسلح باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لامتناہی خانہ جنگی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ہم شام کے حصے بخرے ہونے کے بھی خلاف ہیں''۔

ولادی میر پوتین کے اس بیان سے ایک ہفتہ قبل روس کےنائب وزیرخارجہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے کریملن کے خصوصی ایلچی میخائل بوگدانوف کا کہنا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد ملک پراپنا کنٹرول کھو رہے ہیں اور حزب اختلاف کی کامیابی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لیکن اس سے ایک روز بعد روسی وزارت خارجہ نے ان کے اس بیان کی تردید کی تھی اور اس کو ان کا ذاتی موقف قرار دیا تھا۔



واضح رہے کہ روس اب تک بشارالاسد کو تحفظ مہیا کرتا چلا آرہا ہے اوراس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دومرتبہ شامی صدر کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کے لیے ۔مغربی ممالک کی پیش کردہ قراردادوں کو ویٹو کردیا تھااور اس نے اسد حکومت کی جانب سے پُرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائیوں کی مذمت بھی نہیں کی تھی۔اس وجہ سے اسے عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔