.

شام سے 30 ہزار روسی شہریوں کے انخلاء کا منصوبہ

آپریشن کے لیے روسی جنگی جہاز بحر متوسطہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس نے شام سے اپنے شہریوں کے انخلاء کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس اقدام کو شامی انقلابیوں کی دمشق کی جانب پیش قدمی سے ماسکو کی تشویش سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے بحر متوسطہ میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اپنے شہریوں کو ممکنہ طور پر ملک سے نکالنے میں مدد فراہم کر سکے۔

بشار الاسد کے اہم اتحادی اور حامی ملک نے یہ اقدام شام میں انقلابیوں کے حق میں پیدا ہوتی ہوئی زمینی صورتحال کے بعد اٹھایا ہے۔ روسی اخبار آشویش شا نے وزارت دفاع اور ہنگامی صورتحال کے تیارکردہ منصوبے کے خدوخال شائع کئے ہیں۔ نیز اس منصوبے پر عملدرآمد کی کوارڈی نیشن کی خاطر خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اس منصوبے کے تحت شام کے خطرناک علاقوں میں مقیم تیس ہزار روسی شہریوں کو چند روز میں ملک سے نکالا جائے گا۔ روسی شہریوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے گروپ میں شام میں خدمات سرانجام دینے والا روسی سفارتی عملہ اور دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین شامل ہیں جبکہ دوسرا گروپ تارکین وطن اور تیسرا حلقہ ان افراد پر مشتمل ہے کہ جو نجی ضروریات کے تحت شام آتے جاتے رہے ہیں۔

منصوبے کے مطابق انخلا کے عمل میں بری، بحری اور فضائی تینوں سہولیات استعمال کی جائیں گی۔ زمینی راستے سے روسی شہریوں کو طرطوس اور اللاذقیہ کی بندرگاہ پہنچایا جائے گا، جہاں سے بعد ازاں انہیں بحری راستے سے قبرص کی لارنکا بندرگاہ پہنچایا جائے گا۔