.

شام میں جاری خانہ جنگی فرقہ وارانہ شکل اختیار کر چکیاقوام متحدہ

تمام طبقات کے افراد کی زندگیوں کے لیے خطرات پیدا ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں گذشتہ اکیس ماہ سے جاری خانہ جنگی فرقہ وارانہ شکل اختیار کرچکی ہےاور اس سے ملک کے تمام طبقات کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی اور اس میں جنگی جرائم کےارتکاب کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے جمعرات کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ''شام میں سرکاری فوج اور حکومت مخالف جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کو دوسرا سال ختم ہونے کو ہے مگر اب یہ تنازعہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کرچکا ہے''۔

رپورٹ میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ''شام سے تعلق رکھنے والی تمام کمیونٹیاں ہی خطرات سے دوچار ہیں،وہ یا تو بے گھر ہوکربیرون ملک مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔اگر وہ ملک ہی میں رہتے ہیں تو ان کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں''۔

''جن کمیونٹیوں کا کسی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ،ان کے وجود بھی خطرات سے شکار ہیں۔اس لیے تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے فوری حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔اقلیتی گروپوں آرمینیائی ،عیسائی ،دروز ،فلسطینیوں ،ترکمن اور کردوں کو بھِی تنازعے میں کھینچ لایا گیا ہے اور انھیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ شامی حکومت یا باغی جنگجوؤں دونوں میں سے کسی ایک کا ساتھ دیں''۔

تاہم اصل تنازعہ شام کی علوی اقلیت اور سنی اکثریت کے درمیان ہے۔صدر بشارالاسد علوی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے اپنے ہم مذہب لوگوں کو اہم عہدوں پر فائز کررکھا ہے۔ملک کی اکثریت اہل سنت ان کے مخالف ہیں اور وہ باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن کا کہنا ہے کہ ''اسے حکومت مخالف گروپوں کے علویوں پر حملوں سے متعلق قابل اعتبار رپورٹس ملی ہیں۔ایک شہادت کے مطابق باغی جنگجوؤں نے سرکاری فوجیوں کو یرغمال بنایا تھا لیکن ان میں سے علویوں کو قتل کر دیا گیا اور وہ سنیوں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔بصریٰ سے تعلق رکھنے والے ایک شامی نے بتایا کہ شیعہ ملیشیا کے ارکان نے علاقے میں اعلان کررکھا تھا کہ وہ تمام اہل سنت کو قتل کردیں گے۔

واضح رہے کہ شام میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن اگست 2011ء میں قائم کیا گیا تھا۔اس میں جنگی جرائم کی سابق پراسیکیوٹر کارلا ڈیل پونٹے بھی شامل ہیں۔صدر بشارالاسد کی حکومت نے ابھی تک اس کمیشن کے ارکان کو ملک میں داخل ہوکر تحقیقات کی اجازت نہیں دی اور اس نے بیرون ملک مقیم شامیوں سے انٹرویوز کیے ہیں یا شام میں شہریوں سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرکے رپورٹ مرتب کی ہے۔

کمیشن کے ارکان نے اسی ماہ اردن اور مصر کا دورہ کیا تھا اور اس سے قبل ایک ہزار سے زیادہ انٹرویو کیے تھے۔انھوں نے نہ صرف شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثرہ افراد سے گفتگو کی ہے بلکہ تشدد کا حصہ رہنے کا اعتراف کرنے والے لوگوں سے بھی بات چیت کی ہے اور ان انٹرویوز کی بنیاد پر کمیشن اگست میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ شامی فوج اور باغی جنگجو دونوں ہی جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔