.

یمنی فوج کے انتظامی ڈھانچے میں دور رس نتائج کی حامل اہم تبدیلیاں

تبدیلیوں کا مقصد فوج کو صدر صالح کے حواریوں سے پاک کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے ملک کی فوج اور وزارت دفاع کے انتظامی ڈھانچے میں اہم اور دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں کی ہیں۔ تبدیلیوں کا مقصد ملک کے ان اہم شعبوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حواریوں سے پاک کرنا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر ہادی نے ایلیٹ ریپبلیکن گارڈ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس یونٹ کی کمان علی عبداللہ صالح کے سب سے بڑے صاحبزادے احمد کے پاس تھی۔

صدر ہادی منصور نے ملک پر کئی دہائیوں تک بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والے علی عبداللہ صالح کے مستعفی ہونے کے بعد چھے ماہ قبل ہی اقتدار سنبھالا تھا۔ علی عبداللہ صالح انتقال اقتدار کے ایک عبوری معاہدے کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہوئے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ری پیبلیکن گارڈز کی بساط لپٹنے کے بعد یمنی فوج زمینی، فضائی اور بحری افواج پر مشتمل ہو گی۔ فوج کی چار یونٹوں میں تنظیم نو کی گئی ہے جن میں زمینی فوج، نیوی، ائرفورس اور بارڈر فورس شامل ہیں۔

تین نئے تشکیل کردہ شعبے صدر کے براہ راست کنڑول میں ہوں گے۔ ان میں صدارتی گارڈ، اسپیشل آپریشن فورس اور بلاسٹک ہتھیاروں کی نگرانی کا یونٹ نمایاں ہیں۔ مؤخر الذکر دونوں شعبے ماضی میں مستعفی صدر صالح کے صاحبزادے احمد کے زیر کمان تھے۔

بدھ کی شب صدر ہادی نے فوجی تنظیم نو کے اعلامئے ہی میں سابق کے بھتیجے اور مرکزی سیکیورٹی فورسسز کے نائب سربراہ جنرل یحی محمد صالح کو بھی ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔ ان کی جگہ جنرل احمد علی المقدسی لیں گے۔

یاد رہے کہ امسال اگست میں فوج کے اندر اصلاحات کی کوشش اور جنرل صالح کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کے بعد یمنی فوج اور 200 ریپلیکن گارڈز کے درمیان تصادم ہو گیا تھا اور ری پیبلیکن گارڈ کے اہلکاروں نے وزارت دفاع کا محاصرہ کر لیا تھا۔

دوحہ میں قائم بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سکالر ابراہیم شارق نے فوج میں اہم تبدیلیوں کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہادی کے اقدامات سے صنعاء میں سیاسی زلزلہ آ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ہادی کے اقدامات سے یمن میں انتقال اقتدار کے لئے خلیج اور عرب ملکوں کے حمایت یافتہ منصوبے کو بہت زیادہ بڑھاوا ملے گا، تاہم اعلان پر جنرل صالح کیا ردعمل دکھاتے ہیں، یہ بات واضح نہیں۔