.

روس شام میں طوائف الملوکی نہیں،جمہوری حکومت چاہتا ہے پوتین

حلب میں شامی باغیوں کی مسافر طیارے پر انتباہی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس کے صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں طوائف الملوکی نہیں چاہتا بلکہ وہاں ایک جمہوری حکومت چاہتا ہے۔

انھوں نے یہ بات برسلز میں''یورپی یونین،روس سربراہ اجلاس'' کے بعد جمعہ کو نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم شام میں امن وامان کے قیام کے لیے کام کریں گے اور اس ملک میں جمہوری حکومت چاہتے ہیں کیونکہ اس کی سرحدیں ہمارے قریب واقع ہیں''۔

روسی صدر نے کہا کہ ''ہم شام میں افراتفری اور طوائف الملوکی نہیں چاہتے۔ہرکوئی تشدد اور خونریزی کو روکنے کا خواہاں ہے''۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ روس شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے اور نہ ہم شامی حکومت کی وکالت نہیں کررہے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شامی بحران کا حل تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے اور تمام شہریوں کی آراء اور نقطہ نظر کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔

یورپی یونین کی کونسل کے صدر ہرمن وان رومپائے نے ولادی میر پوتین کے ساتھ برسلز میں مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حزب اختلاف کی حمایت کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔واضح رہے کہ یورپی یونین شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو ملک کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرچکی ہے لیکن وہ باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے سے گریز کررہی ہے۔

روسی صدر پوتین نے گذشتہ روز ماسکو میں اپنی سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ملک کو شام کے بارے میں صدر بشارالاسد سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔انھوں نے کہا کہ''روس بشارالاسد کے بجائے شامی عوام کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے۔ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسد خاندان گذشتہ چالیس سال سے برسر اقتدار ہے،اس لیے عوام تبدیلی چاہتے ہیں"۔پوتین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس اسد انتظامیہ کی حمایت نہیں کرتا لیکن روس کو خدشہ ہے کہ شام کے ناگوارحالات سے اس پورے خطے کے حالات پر ناگوار اثر پڑ سکتا ہے۔

شام میں جھڑپیں

دوسری جانب شام میں حزب اختلاف اور سرکاری فوج کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں اور شمالی شہر حلب میں باغی جنگجوؤں نے ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کی تیاری کرنے والے ایک مسافر طیارے پر انتباہی فائرنگ کی ہے۔

گذشتہ اکیس ماہ میں یہ پہلا موقع ہے کہ باغی جنگجوؤں نے کسی مسافر طیارے کی جانب براہ راست فائرنگ کی ہے۔باغی جنگجوؤں کے خلدون کے نام سے اپنا تعارف کرانے والے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ فائرنگ کے بعد طیارہ اڑان بھرنے کے قابل نہیں رہا تھا اور اس پر فائرنگ سے شامی حکومت کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کے تمام جنگی اور مسافر طیارے ہمارے نشانے پر ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس واقعہ کے بارے میں دم تحریر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔ایک اور باغی جنگجو نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ حلب کے ہوائی اڈے یا شامی ائیرلائنز کے ذریعے سفر سے گریز کریں کیونکہ ان طیاروں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔باغی جنگجو حکومت پر مسافر طیاروں کے ذریعے ایرانی جنگجوؤں اور ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے الزامات بھی عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔