.

مصری دستور میں ترمیم کے خلاف عریاں احتجاج کرنے والی دوشیزہ ہدف تنقید

سویڈن میں قاہرہ کے سفارتخانے کے سامنے بے لباسی کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں نئے دستور سے متعلق ریفرینڈم کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرنے کے لئے سویڈن میں مصری سفارتخانے کے باہر فیمن نامی تنظیم کی خاتون کارکن نے خود کو بے لباس کر لیا۔ علیا المھدی کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

یوکرینی خواتین انجمن کی علیا المھدی اور ان کی دو دیگر ساتھیوں نے مصری دستور کے خلاف احتجاج کی خاطر قاہرہ ایمبیسی کے سامنے خود کو بے لباس کر لیا۔ مصر میں سرگرم چھے اپریل موومنٹ کے ترجمان محمود عفیفی نے علیا المھدی کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ایسی خواتین اور کر بھی کیا سکتی ہیں۔

اپنے ٹیوٹر اکاونٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے عفیفی نے کہا کہ بے لباس کی شرمناک روایت کی داغ بیل رکھنے والی خواتین کا یہ قول بے لباسی سے زیادہ شرمناک ہے کہ ان کی بے لباسی دراصل ہر اس شخص کی آواز سمجھی جائے جو دستور میں ترمیم کے خلاف ووٹ دینے جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ علیا ایک برس قبل فیس بک اکاؤنٹ پر اپنی عریاں تصویر جاری کر چکی ہیں، جس پر تنقید کا نہ تھمنے والا طوفان شروع ہو گیا تھا۔