.

یورپی یونین نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عاید کردیں

جوہری تنازعے پر تہران کا گھیرا مزید تنگ کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یورپی یونین نے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ یا اس میں معاونت کرنے والی مزید اٹھارہ کمپنیوں، اداروں اور ایک شخصیت کو بلیک لسٹ کرکے ان پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ایک شخص اور اٹھارہ اداروں پر ایران کی جوہری سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا ایرانی حکومت کی حمایت پر پابندیاں عاید کردی گئی ہیں اور ان کے نام یورپی یونین کی پابندیاں کا شکار ایرانی شخصیات اور اداروں کی فہرست میں شامل کر لیے گئے ہیں''۔

ان اداروں اور شخصیت کے بعد یورپی یونین کی پابندیوں کا شکار ایرانی اداروں کی تعداد چارسو نوے ہوگئی ہے اور پابندیاں کا ہدف افراد کی تعداد ایک سو پانچ ہے۔ان کے رکن ممالک میں اثاثے منجمد کیے جاچکے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں بھی عاید ہیں۔

جن ایرانی اداروں پر نئی پابندیاں عاید کی گئی ہیں،ان کے نام ہفتے کے روز یورپی یونین کے سرکاری جرنل میں شائع کیے جارہے ہیں۔یورپی یونین کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تنظیم نے ایران کے خلاف نئی مالیاتی اورتجارتی پابندیاں عاید کرنے کی منظوری دی ہے۔تنظیم کے وزرائے خارجہ نے پندرہ اکتوبر کو ان پابندیوں سے اتفاق کیا تھا۔

اکتوبر میں منظور کردہ اس پیکج کے تحت یورپی اور ایرانی بنکوں کے درمیان ہر طرح کے لین دین پر پابندی عاید کردی گئی تھی اور متعلقہ ملک کے بنک اپنے قومی حکام کی منظوری کے بغیر ایرانی بنکوں سے کسی قسم کا کوئی لین دین نہیں کر سکتے۔

یورپی یونین نے ایران سے گیس کی درآمد پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔اس سے پہلے یکم جولائی کو یورپی یونین نے ایران سے تیل کی درآمدات پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس اقدام اور امریکا کی عاید کردہ معاشی قدغنوں سے ایران کی تیل کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ایرانی حکومت اپنی کل آمدن کا نصف تیل کی برآمدات سے حاصل کرتی رہی ہے۔

ایرانی لیڈر مغربی پابندیوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے عاید کردہ پابندیوں سے قبل یہ ممالک ایران سے چھے لاکھ بیرل یومیہ تیل خرید کررہے تھے جبکہ وہ اپنی تیل کی برآمدات کا دوتہائی چین ،بھارت ،جاپان اور جنوبی کوریا کو بھیجتا ہے۔

یورپی یونین کے رکن ستائیس ممالک نے 23 جنوری 2012ء کو جوہری پروگرام کے تنازعے پر دباٶ بڑھانے کی غرض سے ایران سے خام تیل درآمد کرنے پرپابندی لگادی تھی اور اس کے مرکزی بنک کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ دوسرے اداروں کے ساتھ ہیروں ،سونے اور دوسری قیمتی دھاتوں کی تجارت پر بھی پابندی عاید کردی تھی۔

امریکا ،برطانیہ ،فرانس اور جرمنی ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن ایران اس الزام کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران کے خلاف مغربی ممالک کی عاید کردہ پابندیوں کا مقصد ایران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبورکرنا ہے لیکن مغربی ممالک اپنے اس مقصد میں ناکام رہے ہیں اور اب تو ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین نے گذشتہ سال ایران کے خلاف اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی تحدیدات کےبعد مزید سخت پابندیاں عاید کی تھیں جن کے تحت اس کے مغربی ممالک میں اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ بنک کاری ، انشورنس، ٹرانسپورٹ، تیل اورگیس کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا تھا اور ان شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری پر قدغنیں لگادی گئی تھیں۔