.

نائب صدر اور گورنر سٹیٹ بینک مرسی کا ساتھ چھوڑ گئے

ریفرینڈم نتیجے پر محمود مکی کا پیشگی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری نائب صدر محمود مکی ایڈووکیٹ کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد ہی سرکاری ٹی وی ویژن سے مصری بنک دولت کے گورنر فاروق العقدہ کے استعفے کا اعلان اہل مصر اور دنیا بھر کے لئے ناقابل یقین بات تھی۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ العقدہ نے صدر محمد مرسی سے حالیہ ملاقات میں انہیں اپنے استعفی کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔

مصری ٹیلی ویژن کے مطابق العقدہ سن 2003ء سے مصر کے بینک دولت کے گورنر چلے آ رہے تھے۔ العقدہ کے نائب ہشام رامز ان کی جگہ بینک کے گورنر مقرر کئے جا سکتے ہیں۔

مصر کے نائب صدر محمود مکی ایڈووکیٹ نے اپنا استعفی صدر محمد مرسی کو 17 نومبر کو پیش کر دیا تھا تھا لیکن غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور پھر پاکستان میں G-8 کانفرنس میں ان کی شرکت کی وجہ سے اسے منظور نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ 22 دسمبر میرے اس استعفی کے اعلان کا مناسب وقت ہے۔ میں قومی صفوں میں ایک رضاکار سپاہی کے طور پر خدمات سر انجام دیتا رہوں گا۔ محمود مکی سن 1954ء کو اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ انہیں /12اگست کو مملکت کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔

محمود مکی قاہرہ کی پولیس اکیڈیمی کے فارغ التحصیل ہیں اور وہ مرکزی سیکیورٹی فورس میں بطور افسر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے بعد ازاں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا اور پھر پرسیکیوشن برانچ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کے بھائی احمد مکی ایڈووکیٹ وزیر اعظم ھشام قندیل کی حکومت میں وزیر قانون رہ چکے ہیں۔

سابق معزول صدر حسنی مبارک کے دور میں محمود مکی کا شمار عدلیہ کی اصلاح کے پرچارکوں میں ہوتا تھا۔ اس مہم میں ایڈووکیٹ ہشام البسطویسی محمود مکی کے دست راست تھے۔ انہیں اصلاح پسند وکلاء اور مصری عدلیہ میں استقلال پارٹی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہ سمجھتے تھے کہ عدلیہ کو انتظامیہ کی باندی بنا کر رکھا گیا ہے اور اس وقت کی حکومت مصری نظام عدل کی اصلاح میں دلچسپی نہیں رکھتی۔