.

چک ہیگل کی بطور وزیر دفاع نامزدگی پر یہودی لابی چراغ پا

ہیگل ایرانی پاسداران انقلاب کا ایجنٹ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں سینٹر جان کیری کی وزیر خارجہ نامزدگی کی خبریں ملک میں اسرائیل نواز لابی کے لئے سوہان روح بنی ہوئی تھیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ چاک ہیگل کو وزیر دفاع نامزدگی کی اطلاعات آنا شروع ہو گئیں جس سے صہیونیت کے محافظ دن کا چین اور رات کی نیند گنوا بیٹھے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈیموکریٹ جان کیری اور سابق رُکن کانگریس چک ہیگل مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے پر زور حامی اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے سخت خلاف ہیں۔ جان کیری ایران کے حوالے سے سخت موقف اپنانے کے حامی ہیں لیکن امریکا کے جانی دشمن ملک [ایران] کے بارے میں مسٹر ہیگل کا موقف ’’عدم جارحیت‘‘ پر مبنی ہے جس کی وجہ سے اسرائیل نواز ہمیشہ ان سے شاکی رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان دنوں امریکا میں چک ہیگل کو وزیر دفاع بننے سے روکنے کے لیے یہودیوں نے شر انگیز مہم شروع کر رکھی ہے۔ مہم کے روح رواں وہ یہودی اور اسرائیل نواز گروپ ہیں جو ہیگل کو 'ایرانی ایجنٹ' سمجھتے ہیں۔ کانگریس میں مسٹر ہیکل نے ایران کے طاقتور پاسداران انقلاب کو 'دہشت گرد فورس' قرار دینے اور ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی پاداش میں اقتصادی پاببدیاں لگانے کی مخالفت کی تھی۔ ان کا یہ موقف یہودی لابی کے لیے غم وغصے کا موجب بنا ہوا ہے۔

ہیگل کے خلاف صہیونی الزامات ایران تک موقف نہیں بلکہ اسرائیل نواز کہتے ہیں کہ چک ہیگل نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے متعلق ایک یورپی مراسلہ کانگرنس کو دستخط کے لیے بھجوانے کی بھی مخالفت کی تھی۔

ہیگل کے خلاف شر انگیز مہم میں امریکا میں یہودیوں کی نمائندہ تنظیم 'آئی پیک'، جریدہ 'ویکلی اسٹینڈرڈ' کے ایڈیٹر بیل کریسٹول اور 'ایمرجنسی کمیٹی برائے اسرائیل' پیش پیش ہیں۔ اس لابی نے امریکی ٹی وی چینلز پر 'غلط فیصلہ' کے عنوان سے ایک اشتہاری مہم چلا رکھی ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز اشتہار میں کہا گیا ہے کہ اگر ایوان نمائندگان کے سابق رکن چک ہیگل کو وزیر دفاع کا قلمدان سونپنا صدر باراک اوباما کا ایک ’غلط فیصلہ‘ ہو گا کیونکہ ہیگل ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے تہران پر فوج کشی کے حامی نہیں ہیں۔ اشتہار کا اختتام صدر اوباما کو اس ناصحانہ جملے پر ہوتا ہے: 'کیا ہیگل کو وزارت دفاع کا قلم دان سونپا جانا کوئی دانشمندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے؟'۔

آئی پیک کے ترجمان اور 'اسرائیلی پروگرام فاؤنڈیشن' کے ڈائریکٹر گوش بلاک کا کہنا ہے کہ چک ہیگل کے خیالات ڈیموکریٹک پارٹی کی موقف کی حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی ریپبلیکن کے خیالات سے ہم آہنگ ہیں۔ کم از کم ان کا ایران اور اسرائیل کے بارے میں موقف واشنگٹن کی روایتی پالیسی کے برعکس ہے‘‘۔

ہیگل کو وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے اور ان کے خلاف یہودیوں کے زہر آلود پروپیگنڈے کے حوالے سے وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی نے کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔ البتہ انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کا ایک گول مول سا جواب دیتے ہوئے مسٹر ہیگل کی خدمات کو سراہا۔ جے کارنی کے بہ قول ملک میں جمہوریت کے فروغ اور دفاع کے لیے ہیگل کی خدمات قابل قدر ہیں۔ وہ ملک و قوم کے لیے لڑتے رہے ہیں اور انہوں نے جنگ میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر دو تمغہ جرات حاصل کر رکھے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں ایک طرف چک ہیگل کے موقف کے مخالف یہودی لابی سرگرم ہے وہیں دوسری طرف یہودی گروپ ان کے حامی بھی ہیں۔ امریکی دانشور اور امریکن پروگریسو سینٹر کے رُکن میٹ ڈاس کہتے ہیں کہ حمایت کرنے والوں میں بیشتر کا تعلق 'نیو کنزرویٹیو' طبقے سے ہے جو جنگ کے بجائے بات چیت، سیاسی داؤ پیچ اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی ہیں۔ ایسے خیالات کے پرچارک اسرائیل میں بھی موجود ہیں۔ لیبر پارٹی انہی یہودیوں کی نمائندہ جماعت ہے جو مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی کالونیوں کی تعمیر کی مخالف اور فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے مسئلے کے دو ریاستی حل کی حامی سمجھی جاتی ہے۔

مسٹر ڈاس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نوازوں کے لیے چاک ہیگل کی مخالفت کا صرف ایک ہی جواز ہے کہ وہ ایران اور فلسطینیوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اگر وہ وزارت دفاع کے عہدے پرفائز بھی ہو گئے تو کیا وہ تنہا فیصلے کریں گے؟ یا یہ کہ کیا وہ اسرائیل کے لیے امریکا کی دفاعی امداد کم کر دیں گے۔ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔ البتہ اسرائیل پر فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔