.

ترکی میں پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب صرف دفاع کے لیے ہےنیٹو

شام میں نوفلائی زون کے قیام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا کہنا ہے کہ ترکی میں دفاعی مقاصد کے لیے پیٹریاٹ میزائل نظام کی تنصیب کی جارہی ہے اور اس کا نوفلائی زون کے قیام یا کسی جارحانہ آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

نیٹو نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ''اس نظام کی تنصیب کا مقصد ترکی کا کسی بیرونی خطرے سے دفاع ہے ،اس سے ترک آبادی اور علاقے کا دفاع کیا جائے گا اور نیٹو ممالک کی جنوب مشرقی سرحدوں پر موجود کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے گا''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''میزائلوں کی تنصیب کا فیصلہ نیٹو کے عسکری حکام کے فوجی جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔جرمنی ،نیدرلینڈز اور امریکا نے ترکی کے تین علاقوں میں دو دو پیٹریاٹ بیٹریز نصب کرنے کی پیش کش کی ہے اور ان کو شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں میں نصب کیا جائے گا''۔

ترکی نے معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم سے شام کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کی درخواست کی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اس کو شام کی جانب سے میزائل حملے کے ممکنہ خطرے کا سامنا ہے۔

ایران نے ترکی اور شام کے درمیان سرحد پر نیٹو کے میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کی مخالفت کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ایرانی وزیردفاع احمد وحیدی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ''پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب کا ترکی کی سکیورٹی میں کوئی کردار نہیں ہوگا بلکہ اس سے ترکی کو نقصان ہی پہنچے گا''۔

انھوں نے کہا کہ مغرب نے ہمیشہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کیے ہیں اور اپنے مقاصد کو آگے بڑھایا ہے۔ہم علاقے میں مغربی ممالک کی موجودگی کے مخالف ہیں۔

درایں اثناء روس کی جانب سے یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ وہ ترکی کی سرحد کے نزدیک اپنے علاقے میں جدید ایس 400 فضائی دفاعی نظام کو نصب کررہا ہے۔ترکی کے روزنامہ حریت نے اتوار کو روسی کرنل آئیگورگوربل کا ایک بیان نقل کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا کہ ''ان طیارہ شکن میزائلوں کی تنصیب کا کام دسمبر کے آخر تک مکمل ہو جائے گا''۔

ترکی نیٹو کا واحد اسلامی رکن ملک ہے اور تنظیم کے دوسرے ممالک اپنے اس اتحادی کو درپیش کسی بیرونی جارحیت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اس کی مدد کے پابند ہیں۔شام کے سرحدی علاقے سے حالیہ مہینوں کے دوران متعدد مرتبہ ترکی کی جانب گولہ باری اور فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد ترکی نے سرحدی علاقے میں اپنی فوج کی نقل وحرکت میں اضافہ کردیا تھا۔کسی رکن ملک کو درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے نیٹو کے تحت پیٹریاٹ میزائلوں کی تنصیب ایک معمول کا معاملہ ہے اور ترکی میں یہ میزائل 1990ء کی دہائی میں خلیجی جنگ کے دوران بھی نصب کیے گئے تھے''۔