.

نھضت اسلامی تیونس کے لئے سیکیورٹی رسک بنتی جا رہی ہے

اپوزیشن رہنما الباجی قايد السبسی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کی اپوزیشن جماعت وائس آف تیونس کے سربراہ قاید السبسی نے کہا ہے کہ حکمران جماعت تحریک نھضت اسلامی سیکیورٹی رسک بن گئی ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ وزارت داخلہ نے حکمران جماعت کے لوگوں کے ساتھ مل کر تنظیمی جلسے پر حملہ کیا۔

تیونس کے نجی ایف ایم ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے قاید السبیسی نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ انتہائی غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان پر حکومت کرنے والی جماعت سیکیورٹی رسک بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے جنوبی علاقے جربہ ائرلینڈ میں ان کی جماعت کے جلسے پر حملہ کرنے والوں کا تعلق حکمران جماعت سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ نینشل لیگ برائے تحفظ انقلاب کے ڈانڈے تحریک نھضت اسلامی سے ملتے ہیں اور یہی تنظیم جلسے پر حملے کی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ پولیس نے حملہ آوروں کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں جلسہ تتر بتر ہو گیا۔ بہ قول مسٹر قاید جسلے میں جربہ کے دو ہزار افراد شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے جلسے کے بارے میں وزارت داخلہ کو پیشگی اطلاع دی تھی، جس کے جواب میں انہیں پروگرام کی سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ یاد رہے وزیر داخلہ علی العریض کا تعلق تحریک نھضت سے ہے۔



ادھر حکمران جماعت کے رہنما عامر العریض نے جزبہ میں صدائے تیونس کے جلسے پر حملے میں حکمران جماعت کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا قاید السبسی کے الزامات بے بنیاد ہیں، ہم تشدد کی پر کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان خالد طروش نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنے بیان میں اس امر کی دوٹوک تردید کی کہ پولیس نے حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کیا۔