.

کابل کے بازار میں آگ لگنے سے کروڑوں کا نقصان

آگ سے چار سو دکانیں جل کر خاکستر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مرکزی بازار نصیرے مارکیٹ میں رات گئے لگنے والی آگ سے اب تک کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔

اسی بازار کے ساتھ موجود کابل کی مرکزی کرنسی اور صرافہ مارکیٹ سرائے شہزادہ کو بھی جلدی میں تاجروں کو خالی کرنا پڑا جنہیں بڑی مقدار میں کرنسی نوٹ اور سونا اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔

صرافہ بازار اور کرنسی مارکیٹ کے تاجروں کو حکومت نے گاڑیاں دیں جن میں کروڑوں ڈالر اور مختلف ممالک کی کرنسی اور سونا منتقل کیا گیا۔

کابل کے فائر بریگیڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب تک آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک کسی بھی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے مگر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس آگ سے کروڑوں کا سامان اور جائیداد تباہ ہو گئی ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ جنرل ایوب سلانگی نے بتایا کہ حفاظت پر مامور چوکیدار غائب ہو گیا ہے اور پولیس اس کو ڈھونڈ رہی ہے۔