.

حیفا کے ہوٹلوں میں سال نو کی تقریبات منعقد نہ کرنے کا مطالبہ

مطالبے کا مقصد عرب منافرت ہوا دینا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی عربوں کے خلاف نفرت کے مظاہر انتہا پسند مذہبی جنونی یہودیوں کی فطرت ثانیہ بن چکے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال سنہ 1948ء کے مقبوضہ عرب شہرحیفا میں عبرانی سال کی تقریبات کے موقع پرمقامی فلسطینی ہوٹلوں کے مالکان کو ڈرانے دھمکانے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

حیفا میں یہودیوں نمائندہ مذہبی تنظیم نے مقامی عرب ہوٹل مالکان کو خبردار کیا ہے کہ وہ عبرانی سال کی تقریبات اپنے ہاں منعقد کرانے سے گریز کریں۔ ساتھ ہی اسرائیل کے تمام بڑے ہوٹل مالکان کو یہودیوں کے لئے ان کے مذہب کے مطابق کھانے فراہم کرنے تاکید کی گئی ہے۔ یہودی گروپ کے اس مطالبے نے حیفا کے تمام عرب شہریوں اور بالخصوص مسیحی برادری کو سخت تشویش میں مبتلا کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہودی مذہبی پیشواؤں کی اس تنظیم نے اسرائیل کے فائیو سٹار ریستورانوں کے مالکان اور ان کی انتظامیہ کو ایک مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں انہیں سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ عبرانی سال نو کی محافل کے دوران یہودی مذہبی قوانین کے مطابق طعام کا اہتمام کریں۔ مراسلے میں ہوٹل مالکان سے کہا گیا کہ وہ یہودیوں کے ہاں ’’کاشروت‘‘ کے نام سے مشہور قانون خورو نوش کی روشنی میں ماہرین سے سامان خورو نوش چیک کرائیں، اس کے بعد لوگوں کو کھانے کو فراہم کریں۔

حیفا کے ایک مقامی سیاسی رہ نما کمیل صادر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہودی مذہبی تنظیم کا مطالبہ حیفا کے عرب باشندوں کے لیے نفرت کی فضاء پیدا کرنا ہے۔ یہ مطالبہ اسرائیلی مذہبی اتھارٹی کی عمومی زندگی پر اپنی اجارہ داری نافذ کرنے کی ایک شکل ہے، جو پچھلے کئی سال سے جاری ہے۔ ہوٹلوں میں فراہم کردہ اشیائے خورو نوش سے متعلق قوانین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمیل صادر کا کہنا تھا کہ ہوٹلوں کے لیے کھانوں سے متعلق پہلے ہی قوانین موجود ہیں۔ مذہبی یہودیوں کی جانب سے’’کاشروت‘‘ کے نام سے ایک نیا قانون وضع کیا گیا ہے، جو ہوٹل مالکان کو بلیک میل کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ریاستی قوانین کی موجودگی میں مذہبی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ آئین اور اخلاقی روایات کے منافی ہے۔