.

روس اور بھارت کے درمیان اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے

پوتین کی من موہن سنگھ سے خطے کی سلامتی پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روس اور بھارت نے اربوں ڈالرز مالیت کے دفاعی سودوں سے متعلق معاہدوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے متعدد سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں۔

دونوں ممالک کے حکام نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے دورۂ بھارت کے موقع پر نئی دہلی میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بھارت روس سے بیالیس سخوئی ایس یو 30جنگی طیارے خرید کرے گا۔ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کے دوسرے سودے کے تحت بھارت اپنے دیرینہ حلیف ملک روس سے اکہتر مل ایم آئی فوجی ہیلی کاپٹر خرید کرے گا۔

روسی صدر نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں افغانستان سمیت خطے میں سکیورٹی کی صورت حال اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

مذاکرات کے بعد بھارتی وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''بھارت اور روس ایک مستحکم ،متحد ،جمہوری اور خوش حال افغانستان چاہتے ہیں جو دہشت گردی سے بالکل پاک ہو''۔

واضح رہے کہ بھارت اور روس کے درمیان سن 2000ء کے بعد دوطرفہ تجارت کے حجم میں چھے گنا اضافہ ہوا ہے۔اس سال توقع ہے کہ اس کا حجم دس ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔تاہم حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارتی حجم میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت دنیا میں روسی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک ہے۔البتہ اب بھارت مغربی ممالک سے بھی اسلحہ خرید کررہا ہے اور وہ بتدریج روس پر انصار کم کررہا ہے۔

دہلی میں روسی صدر ولادی میر پوتین کے قیام کے موقع پر دونوں ممالک کے حکام نے دوطرفہ تعاون کی جن دوسری دستاویزات پر دستخط کیے ہیں،ان میں بالخصوص براہ راست سرمایہ کاری سے متعلق روسی فاؤنڈیشن اور ہندوستان کے ریاستی بینک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت شامل ہے۔اس کے تحت دونوں ممالک ایک ارب ڈالرز کے مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کریں گے۔

ان کے علاوہ نیوی گیشن سسٹمز تیار کرنے والی روسی کمپنی "نیس گلوناس" اور ہندوستانی کمپنی "مہانگر ٹیلی فون نگم" نے بھی مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ "نیس گلوناس" نے بھارت "ٹاٹ کنسلٹینسی سروسز" کے ساتھ بھی تعاون کا سمجھوتا کیا ہے۔

روس اور بھارت کی وزارت ہائے ثقافت نے آیندہ تین سال کے لیے ثقافتی تعاون سے متعلق لائحہ عمل پر دستخط کیے ہیں جبکہ روس کی وزارت تعلیم اور بھارت کی وزارت تعلیم اور ٹیکنالوجی نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت آفرینی کے میدان میں اشتراک عمل سے متعلق سمجھوتا کیا ہے۔ایک اور سمجھوتے کا تعلق دواسازی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون سے ہے۔

روس اور بھارت سرد جنگ کے زمانے سے قریبی دوست ملک چلے آرہے ہیں۔ان کے درمیان سن 2000ء سے2010ء کے دوران تیس ارب ڈالرز مالیت کے دفاعی معاہدے طے پائے تھے۔ان کے تحت بھارت نے جیٹ، میزائل ،ٹینک اور دوسرا اسلحہ فروخت کیا تھا۔