.

مصر میں ریفرینڈم میں نئے آئین کی منظوری پر ایران کی مبارکباد

''آئین کی منظوری جمہوریت کی جانب فیصلہ کن قدم ہے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے مصر میں دو مراحل میں منعقدہ ریفرینڈم میں نئے آئین کی منظوری پر اہل مصر کو مبارک باد دی ہے اور اسے جمہوریت کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔

ایران کی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی (ایسنا) کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست نے سوموار کو ایک بیان میں مصریوں کو نئے آئین کی منظوری پر مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ تہران اس کو مصر میں جمہوریت کی جانب ایک فیصلہ قدم قرار دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ریفرینڈم میں عوام کی شرکت سے مصری حکومت کو بڑی حمایت ملی ہے اور اس سے وہ مستقبل میں مصری عوام کے عظیم تر اسلامی اور انقلابی مقاصد کے حصول کے لیے مزید اقدامات کرسکتی ہے''۔

واضح رہے کہ ایران اور مصر کے درمیان 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے سفارتی تعلقات منقطع چلے آرہے ہیں۔مصر نے تب انقلابی قوتوں کے بجائے شاہ ایران کی حمایت کی تھی اور اس کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے لیکن سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور صدر محمد مرسی نے اگست میں ایران کا دورہ کیا تھا۔تیس سال کے بعد کسی مصری صدر کا یہ ایران کا پہلا دورہ تھا۔

صدر محمد مرسی کی پشتی بان جماعت اخوان المسلمون نے گذشتہ روز غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر ریفرینڈم میں کامیابی کا اعلان کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ چونسٹھ فی صد ووٹروں نے نئے آئین کی منظوری دے دی ہے۔مصر کے الیکٹورل کمیشن کی جانب سے آئینی ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کا اعلان آج کیا جارہا ہے۔اگر اخوان کی جانب سے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر منظورشدہ نئے آئین کے تحت آیندہ دوماہ میں پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔

لیکن حزب اختلاف نے نئے دستور کی منظوری کے لیے منعقدہ ریفرینڈم کے نتائج کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے اور اس نے دعویٰ کیا ہے کہ پولنگ کے دوران فراڈ اور بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک رکن عبدالغافر شکر نے اتوار کو قاہرہ میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ریفرینڈم شاہراہ کا اختتام نہیں بلکہ یہ تو صرف ایک جنگ ہے اور ہم مصری عوام کے لیے جنگ جاری رکھیں گے''۔جرمن وزیرخارجہ گائیڈو ویسٹرویلےنے بھی ریفرینڈم میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور فراڈ کے الزامات کے ازالے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ مصر تمام سماجی گروپوں کے ملاپ اورباہمی تعاون سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔