.

مصر میں شیخ الازہر کی برخاستگی کا منصوبہ طشت ازبام

سلفی رکن اسمبلی کی خفیہ ویڈیو نے بھانڈا پھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری دستور ساز اسمبلی میں سلفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے رکن ڈاکٹر یاسر برھامی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام پسند حکمرانوں نے جامعہ الازہر سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ملک میں اسلامی دستور کی راہ ہموار ہو گی۔ معاہدے کی حمایت کرنے پر شیخ الازہر کو استثنی دیا جائے گا۔

سلفیوں کے نائب امیر یاسر برھومی ایک ویڈیو میں اپنے ہم مسلکی پارٹی ارکان سے معافی کے طلبگار نظر آتے ہیں کہ وہ اسمبلی کو اس بات پر راضی نہ کر سکے کہ نئے دستور سے شیخ الازہر کو استثنی دینے کی شق نکال دی جائے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دستور میں برقرار متنازعہ آرٹیکل کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ایک دوسرے قانون کے ذریعے غیر مؤثر بنا دیا جائے گا جس میں جامعہ الازہر کے مفتی اعظم کی عہدے سے ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شریعت کی تعبیر سے متعلق آرٹیکل کی منظوری کے بغیر انہوں نے شیخ الازہر کو استثنی دینے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

ویڈیو میں شیخ برھامی مٹھی بھر سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "معاشرے میں شریعت کو بالا دست قانون بنانے کی منظوری اسمبلی میں عیسائیوں نے دی، جنہیں ہماری دینی اصطلاحات کا علم نہیں۔"

اسلام پسند حلقے شیخ الازہر احمد الطیب پر حسنی مبارک کے حامی ہونے کا الزام عاید کرتے ہیں۔ ڈاکٹر احمد الطیب معزول صدر حسنی مبارک کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے رکن تھے۔ اخوان المسلمون کے خلاف سخت گیر موقف بھی ڈاکٹر احمد کے تعارف کا جزو لا ینفک رہا ہے۔