.

افغانستان میں خودکش کار بم دھماکا، تین افغان شہری جاں بحق

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مشرقی افغانستان میں امریکی فوج کے ایک اڈے پر کیے گئے طالبان کے ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم تین افغان شہری ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ طالبان کا یہ حملہ ایک خودکش کار بم حملہ تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ کار بم دھماکہ امریکی فوج کی کمانڈ میں اگلی صفوں میں لڑنے والے سپاہیوں کے اڈے کے دروازے کے قریب کیا گیا۔ خوست مشرقی افغانستان کا ایسا علاقہ ہے جو پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع ہے اور جہاں طالبان عسکریت پسند کافی فعال ہیں۔

نیٹو کی بین الااقوامی حفاظتی فوج ایساف کے ترجمان میجر مارٹن اوڈونل نے بتایا کہ اس حملے میں تین افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ زخمی ہونے والے تمام سات افراد بھی افغان باشندے ہیں۔ اے ایف پی کے ایک رپورٹر کے مطابق فوجی اڈے کے گیٹ کے قریب یہ بم دھماکا اتنا شدید تھا کہ چار کلو میٹر کے فاصلے پر خوست شہر میں کئی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

دسمبر 2009 میں امریکی فوج کے اسی اڈے پر دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے ایک ٹرپل ایجنٹ نے بھی ایک خودکش حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سات ایجنٹ ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ اس امریکی خفیہ ادارے پر 1983 کے بعد کا سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔

خوست میں طالبان بہت سرگرم ہیں

بدھ کے روز ہونے والےخودکش حملے کے بعد افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر ایجنسی اے ایف پی کے نام ایک ای میل میں لکھا کہ یہ حملہ ایک ایسے عسکریت پسند کی طرف سے کیا گیا جس کا نام عمر تھا اور جو خوست کا مقامی باشندہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے کو اچھی طرح جانتا تھا۔

ای میل کے مطابق اس حملہ آور نے یہ کار بم دھماکا اس وقت کیا جب اس فوجی اڈے کے دروازے کے قریب امریکی فوجیوں کی طرف سے اس ملٹری بیس میں جانے والے افراد کی تلاشی لی جا رہی تھی۔