.

ایرانی صدر نے کابینہ کی اکلوتی خاتون وزیر برطرف کر دی

ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز پر احمدی نژاد ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کابینہ کی واحد رکن اور وزیر صحت مرضیہ واحد دست جردی کو برطرف کر دیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو ان کی برطرفی کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ خاتون وزیر نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں مسلسل کمی کے پیش نظر متعدد ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز پیش کی تھی لیکن صدر احمدی نژاد نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور قیمتیں بڑھانے کے بجائے وزیر ہی کو چلتا کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اقوام متحدہ ،امریکا اور یورپی یونین کی عاید کردہ پابندیوں کے تحت ادویہ کو براہ راست ہدف تو نہیں بنایا گیا لیکن مالیاتی قدغنوں کی وجہ سے ان کی درآمدات میں رکاوٹیں حائل ہوئی ہیں۔ایران اپنے ہاں ستانوے فی صد ادویہ خود تیار کرتا ہے لیکن ان کے لیے خام مواد دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔

اکتوبر میں ایک ایرانی عہدے دار نے مقامی طور پر تیار کردہ ادویہ کی قیمتوں میں گذشتہ تین ماہ کے دوران پندرہ سے بیس فی صد تک اضافہ ہونے کا اعتراف کیا تھا جبکہ درآمد کی جانے والی ادویہ اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بیس سے اسی فی صد تک اضافہ ہو چکا تھا۔

ایران کی فاؤنڈیشن برائے خصوصی امراض کی سربراہ فاطمہ حسن نے اگست میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے نام ایک خط لکھا تھا۔ اس میں انھوں نے عالمی ادارے کے سربراہ سے اپیل کی تھی کہ وہ مریضوں کے حوالے سے مغربی پابندیوں کو نرم کرانے کے لیے کردار ادا کریں۔

ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چارمراحل میں مختلف پابندیاں عاید کر رکھی ہیں جبکہ یورپی یونین اور امریکا نے اس کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر الگ سے قدغنیں لگا رکھی ہیں اور ان کا مقصد ایران کو جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ مغربی طاقتیں ایران پر یہ الزام عاید کرتی چلی آرہی ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔