.

شام سے متعلق امریکا سے کسی نئے منصوبہ پر اتفاق نہیں ہوا روس

ماسکو میں شامی نائب وزیر خارجہ کی روسی حکام سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد کی قیادت میں ایک سرکاری وفد نے ماسکو میں روسی وزارت خارجہ کے حکام سے بات چیت کی ہے جبکہ روس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس نے شامی بحران کے حل کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کوئی نیا منصوبہ بنایا ہے۔

فیصل مقداد نے جمعرات کی صبح ماسکو میں روسی حکام سے اپنے ملک میں جاری بحران کے حل سے متعلق بات چیت کی تھی اور روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکا شیوچ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں بعد میں بیان جاری کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم شامی حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کی قوتوں کے ساتھ بھی ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور یہ ملاقات انھی کوششوں کا حصہ ہے''۔فوری طور یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ روسی وزارت خارجہ میں ملاقات میں کون کون شریک تھا لیکن روس کی اترتاس نیوز ایجنسی نے بدھ کو اطلاع دی تھی کہ فیصل مقداد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے بھی ملاقات کریں گے۔

روس نے شام میں جاری بحران کے حل کےلیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کررکھی ہیں اور یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے مصر کے وزیر خارجہ محمد کامل عمرو جمعرات کی شام ماسکو پہنچ رہے ہیں۔ وہ جمعہ کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے بات چیت کریں گے اور اس کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

اس دوران مغربی میڈیا کی جانب سے یہ رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ روس اور امریکا کے درمیان شامی صدر بشارالاسد کو ان کی موجودہ مدت 2014ء تک برسر اقتدار رکھنے پر اتفاق کے لیے بات چیت جاری ہےاور شامی صدر اس مدت کے بعد اپنے مینڈیٹ میں توسیع نہیں کریں گے۔

لیکن روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایسی رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ایسا کوئی منصوبہ ہے اور نہ اس پر غور کیا گیا ہے۔ روس کی شام کے بارے میں ابھی تک وہی پالیسی ہے جس پر جون میں عالمی طاقتوں کے درمیان اتفاق رائے کیا گیا تھا اور اس میں شام کے متحارب دھڑوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیا گیا تھا''۔

روس اس بات پر اصرار کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ اسد حکومت کی حمایت نہیں کرتا لیکن ساتھ ہی اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسکو شامی صدر کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور نہیں کرے گا بلکہ اس ملک کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا شامیوں کا کام ہے۔

حقیقی تبدیلی

درایں اثناء شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے خانہ جنگی کا شکار شام میں حقیقی تبدیلی اور مکمل اختیارات کے ساتھ عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جو آیندہ انتخابات کے انعقاد تک ملک کا نظم ونسق سنبھالے۔

انھوں نے یہ بات دمشق میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔عالمی ایلچی نے گذشتہ دو روز کے دوران شامی دارالحکومت میں صدر بشارالاسد اور حزب اختلاف کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے شام میں جاری خونریزی کے خاتمے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔