.

سعودی عرب پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ایک شخص ہلاک

شیعہ مظاہرین کی سکیورٹی فورسز کی گشتی پارٹی پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے ایک مشرقی صوبے میں پولیس اور اہل تشیع مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔

مقامی کارکنان کا کہنا ہے کہ تشدد کا یہ واقعہ جمعرات کی شام مشرقی شہر قطیف میں پیش آیا تھا جہاں اہل تشیع اپنے علاقے میں لوگوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے اور پولیس نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک اٹھارہ سالہ نوجوان علی المرار ہلاک اور چھے افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی حکام نے ایک بیان میں واقعے میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے کارکنان کے بیان کے برعکس واقعہ کی تفصیل بتائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار قطیف میں گشت پر تھے۔ اس دوران ان پر اچانک فائرنگ شروع کر دی گئی اور انھوں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی تھی جس سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

مشرقی صوبہ کی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے شاہراہ بند کر رکھی تھی اور وہاں آنے والے سکیورٹی اہلکاروں نے ان سے اسے کھولنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا رکھےتھے اور انھوں نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اطراف سے فائرنگ کر دی۔ ترجمان کہ بہ قول ہلاک ہونے والے نوجوان نے بھی گشتی پارٹی پر فائرنگ کی تھی اور اس کے پاس بندوق تھی۔

دوسری جانب قطیف کے مقامی کارکنان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار دو اسپورٹس گاڑیوں میں سوار ہو کر آئے تھے اور انھوں نے آتے ہی مظاہرین پر بلا امتیاز فائرنگ کی تھی۔انھوں نے چھتوں پر کھڑے لوگوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

قطیف میں اہل تشیع کی بڑی کمیونٹی آباد ہے اور وہ گذشتہ سال کے آوائل سے سعودی حکام کے امتیازی سلوک کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں اہل سنت کے برابر ملازمتوں اور ترقی کے دوسرے مواقع حاصل نہیں اور ان کے علاقوں میں سرکار کی جانب سے بہت کم سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب سعودی حکام اہل تشیع کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا ہے اور انھیں دوسرے شہریوں کے برابر ترقی کے مواقع حاصل ہیں۔اس ضمن میں وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے اقدامات کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ اہل تشیع کو شوریٰ کونسل میں بھی شامل کیا گیا ہے اور وہ تمام مکاتب فکر کے لیے قائم کی گئی شاہ عبداللہ کی فاؤنڈیشن میں بھی شامل ہیں۔

سعودی حکام مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ یا ان سے ناروا سلوک کی بھی تردید کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے ہمیشہ اپنے دفاع میں فائرنگ کی ہے اور اس سال پیش آنے والے تشددکے تمام واقعات میں پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی اور اس کے جواب میں انھوں نے حملہ آوروں کو نشانہ بنایا۔ وہ سعودی عرب کے حلیف ملک ایران پر مملکت میں بدامنی کا بیج بونے کے الزامات عاید کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں اس سال اب تک تشدد کے واقعات میں مارے گئے افراد کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔