.

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں کمی، یمن میں اضافہ

امسال پاکستان میں 46 جبکہ یمن میں 53 حملے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملوں میں مسلسل دوسرے برس بھی کمی دیکھی گئی ہے تاہم یمن میں ایسے امریکی حملوں میں مزید شدت آتی جا رہی ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک کے جمع کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے 'اے ایف پی' کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سال رواں کے دوران اب تک کل 46 ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کی بنیاد پر واشنگٹن کے نیو امریکن فاؤنڈیشن نامی تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2012ء میں ایسے 46 ڈرون حملوں کے مقابلے میں پاکستان میں 2011ء کے دوران 72 اور 2010ء میں 122 فضائی حملے کیے گئے تھے۔

دوسری طرف یمن میں ایسے غیر اعلان شدہ امریکی فضائی حملوں میں اسی عرصے کے دوران واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یمن میں ’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ‘ کے شدت پسندوں کے خلاف 2011ء میں 18 ڈرون حملے کیے گئے تھے، جن کی تعداد اس سال کے دوران اب تک قریب تین گنا ہو کر 53 ہو چکی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکا ان ڈرون حملوں کے ذریعے جو جنگ لڑ رہا ہے، وہ سرکاری طور پر خفیہ قرار دی جاتی ہے اور اسی لیے واشنگٹن حکومت یا پینٹاگان کی طرف سے اس بارے میں کوئی باقاعدہ معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اقتدار میں آ کر اپنے پیش رو جارج ڈبلیو بش کے مقابلے میں ان حملوں میں واضح طور پر اضافہ کر دیا تھا اور صدر اوباما نے امریکا کی طرف سے ان حملوں کے کیے جانے کا آج تک محض ایک ہی مرتبہ اقرار کیا ہے۔ ایسا محض اتفاقیہ طور پر ہوا تھا جب اس سال جنوری میں باراک اوباما کسی کے ساتھ تحریری طور پر آن لائن پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے ڈرون حملے کی ایک بہت بڑی اکثریت کا نشانہ شمالی وزیرستان کا علاقہ بنا جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے القاعدہ کے جنگجوؤں اور پاکستانی اور افغان طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی میں آج تک جتنے بھی ڈرون حملے کیے گئے ہیں، وہ زیادہ تر اس خطے کے صدر مقام میران شاہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں کیے گئے۔

نیو امریکن فاؤنڈیشن کے مطابق پریڈیٹر کہلانے والے ڈرون طیاروں کی مدد سے کیے جانے والے ان حملوں میں پاکستان میں 189 سے 308 کے درمیان تک عسکریت پسند اور کم از کم سات عام شہری مارے گئے۔ اسی دوران یمن میں ایسے ہی ڈرون حملوں کے ذریعے اب تک 397 سے 539 کے درمیان تک عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں جبکہ ان فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق کوئی ٹھوس اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

نیو امریکن فاؤنڈیشن کے مطابق یمن میں عسکریت پسندوں کے خلاف جو فضائی حملے کیے گئے، ان میں سے چند حملوں میں امریکی جنگی جہاز استعمال کیے گئے تھے۔ ان حملوں کے لیے ڈرون طیارے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور ملکی فوج کی جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کی طرف سے مشترکہ طور پر استعمال میں لائے جاتے ہیں۔