.

سعودی حکومت نے مدائن صالح کو سیاحت کے لئے کھول دیا

تاریخی مقام یونیسکو کی انسانی ثقافتی میراث میں شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ نے مدائن صالح کو طویل عرصے بند رکھنے کے بعد سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تعلیم، سائنس اور ثقافت سے متعلق تنظیم 'یونیسکو' مدینہ میں جلد ہی ایک نیوز کانفرنس کے ذریعے مدائن صالح میوزیم سمیت بہت سے دوسرے آثار قدیمہ کا افتتاح جلد کرے گی۔

ملک کی سپریم علماء کونسل نے مدائن صالح کو ممنوعہ علاقہ قرار دینے کا فتویٰ دیا تھا جس کے بعد علاقے کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ حال ہی میں فتاویٰ کونسل اور محکمہ سیاحت نے مدائن صالح کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر فتویٰ واپس لے لیا ہے جس کے بعد اسے سیاحتی مقاصد کے لئے کھولا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مدینہ منورہ کی انتظامی حدود میں واقع مدائن صالح کا علاقہ قبل از اسلام حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کی آخری منزل بتائی جاتی ہے۔ روایات کے مطابق قوم ثمود نے حضرت صالح کی اونٹنی کو اسی مقام پر ہلاک کیا تھا جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پرعبرتناک عذاب نازل کیا۔ زلزلے اور طوفان کی شکل میں آنے والےعذاب سے پوری قوم کو نیست ونابود کر دیا۔

علماء نے مدائن صالح میں داخلے سے متعلق امتناع کہ وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان بتایا ہے کہ آپ ایک مرتبہ مدائن سے گذر رہے تھے تو صحابہ سے فرمایا کہ ’’یہ قوم صالح کے عذاب کا مقام ہے۔ یہاں سے روتے ہوئے گذرنا چاہیے۔ پھر آپ نے اپنا سرجھکا لیا اور اسی حالت میں وہاں سے گذر گئے‘‘۔ قرآن کریم میں اس جگہ کا نام ’’الحجر‘‘ وارد ہوا ہے ۔ یہ جگہ چاروں اطراف سے اونچے ٹیلیوں اور پہاڑیوں میں گھری ہوئی ہے۔ شاید اسی نسبت سے قرآن نے اسے الحجر کے نام سے موسوم کیا ہے۔

سعودی محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر اطلاعات عبداللہ الجریفانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا: "یونیسکو میں مدائن صالح کو عالمی انسانی تاریخی ورثہ قرار دینے کے بعد اسکی سیاٰحتی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظرحکومت نے اسے مقامی اور عالمی سیاحت کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ اسے سیاحوں کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کی خاطر یہاں پر عجائب گھر قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مدائن کی تمام قدیم عمارتوں اور قلعوں کی دوبارہ مرمت کی جائے گی"۔

ایک سوال پرمحکمہ سیاحت کےعہدیدار نے بتایا کہ مملکت میں کئی ایسے تاریخی مقامات ہیں لیکن یونیسکو نے صرف مدائن صالح کو عالمی تاریخی انسانی ورثہ قرار دیا ہے۔ یونیسکو حکام جلد مدینہ منورہ آ کر مدئن صالح کے نام سے میوزیم کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس میوزیم میں مدائن کی قدیم تاریخی عمارات کے نادر نمونے اور علاقے سے ملنے والی قدیم اشیاء رکھی جائیں گی۔

ملکی اورغیرملکی سیاحوں کی رسائی آسان بنانے سے متعلق الجریفانی نے کہا کہ حکومت نے مدائن صالح کوایک ریلوے لائن کے ذریعے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور جدہ سمیت کئی دوسرے شہروں سے ملانے کا اہتمام کیا ہے۔ جس پرکام جلد شروع کردیا جائے گا۔

مدائن صالح اپنے اندر تاریخ کے کئی ادوار سموئے ہوئے ہے۔ یہ جگہ قدیم لحیان اور رومی بادشاہتوں کا پایہ تخت رہی۔ نبطی بادشاہت کے زمانے میں یہ نطبی قوم کی سب سے بڑی کالونی تھی جو پانچ سو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔ یوں اس جگہ نبطی، رومی اور کئی دوسری اقوام کے کھنڈر موجود ہیں جو اس مقام کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ سن 2008ء میں اس پر یونیسکو کی نظر پڑی اور اس نے مدائن صالح کو سعودی عرب کا پہلا تاریخی انسانی ورثہ قرار دیا تھا۔