.

بھارت اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کی آخری رسومات

آنجہانی کی شادی اگلے ہفتے ہونا قرار پائی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بھارت میں جنسی زیادتی کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والی لڑکی دارالحکومت نئی دہلی میں آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں۔ پڑوسیوں کے مطابق لڑکی کی فروری میں اپنے دوست کے ساتھ شادی طے تھی جسے اس کے ساتھ بس میں ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم وہ زندہ بچ گیا۔

ایک روز قبل سنگاپور کے اسپتال میں دم توڑنے والی اس لڑکی کی لاش کو اتوار کو علی الصباح وزیراعظم من موہن سنگھ اور حکمران جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے ہوائی اڈے پر وصول کیا۔ لڑکی کے لواحقین بھی اس موقع پر موجود تھے۔

تیئس سالہ میڈیکل کی اس طالبہ کو 16 دسمبر کو نئی دہلی میں اس کے مرد دوست کے ہمراہ ایک چارٹرڈ بس میں لفٹ دینے والوں نے اجتماعی جنسی زیادتی اور سلاخوں سے مارپیٹ کے بعد بس سے نیچے پھینک دیا تھا۔

یہ لڑکی دس روز تک دہلی کے اسپتال میں زیر علاج رہی اور اسے چند روز قبل علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہان وہ جانبر نہ ہوسکی۔ پولیس نے اس واقعے میں ملوث چھے گرفتار ملزمان پر قتل کی دفعہ عائد کردی ہے۔

نئی دہلی کے شہریوں نے گذشتہ شب اس طالبہ کے لیے اپنی محبت اور احترام کے اظہار کے طور پر شہر کے مرکزی علاقے میں شمعیں روشن کیں۔ نئی دہلی میں سخت سردی کے باوجود پانچ ہزار سے زائد افراد اس طالبہ کی یاد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث چھے ملزمان کو سزائے موت ہوسکتی ہے۔