.

راشد غنوشی کا داماد پر تہمت لگانے والی بلاگر کو کوڑے مارنے کا مطالبہ

وزیر خارجہ پر بدعنوانیوں اور ماورائے شادی تعلقات کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کی حکمراں جماعت النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے تہمت لگانے والے افراد/لکھاریوں کو سزا دینے کے لیے کوڑوں کی سزا متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے یہ مطالبہ ایک خاتون لکھاری کا ایک بلاگ سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔ اس میں اس خاتون نے شیخ راشد غنوشی کے داماد اور ملک کے وزیر خارجہ پر بدعنوانیوں اور شادی سے ماورا تعلقات کا الزام عاید کیا ہے۔

راشد غنوشی نے جمعہ کو اپنے خطبے کے دوران کہا تھا کہ تیونسی بلاگر الفا ریاحی کی جانب سے شائع کردہ مواد منافقت کی عکاسی کرتا ہے اور اس کو شرعی قوانین کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔

لیکن اس خاتون بلاگر کا کہنا ہے کہ اس کے پاس وزیرخارجہ رفیق عبدالسلام کے شیرٹن ہوٹل میں قیام اور ایک خاتون کے ساتھ رات گزارنے کے مصدقہ ثبوت موجود ہیں اور اس ہوٹل کا بل سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا تھا۔

اس خاتون نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''اسے وزیر موصوف کے ہوٹل میں ایک خاتون کے ساتھ قیام کا ثبوت حاصل کرنے میں اڑھائی ماہ لگے ہیں اور اب اس کے پاس ہوٹل کی رسیدیں اور ادا شدہ بل موجود ہیں''۔

خاتون بلاگر نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اسکینڈل کی تحقیقات کریں کیونکہ اس کے پاس وزارت خارجہ کے بنک اکاؤنٹ کی تفصیل بھی موجود ہے اوراس کے مصدقہ ہونے کے بارے میں کامل یقین ہے۔

تیونس کے وزیرخارجہ نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہوکر ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس مہم کو اسلامی حکومت کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں دوسرے وزراء کے خلاف بھی اسی طرح کے الزامات عاید کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے شیرٹن ہوٹل میں قیام کا اعتراف کیا اور کہا کہ ان کے پاس دارالحکومت میں مکان نہیں ہے اور ہوٹل ان کے دفتر کے نزدیک پڑتا ہے۔اس لیے وہ وہاں رہتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ان کے پاس ہوٹل میں رہنے کے لیے ایک خاتون تشریف لائی تھیں لیکن وہ ان کی رشتے دار تھیں۔

تیونس کے ایک سیاسی تجزیہ کار منذر ثابت نے راشد غنوشی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے ملک کی سویلین حیثیت کو مسترد کر دیا ہے اور وہ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک تیونسی روزنامے المغرب کے ایڈیٹر انچیف زیاد قریشن کا کہنا ہے کہ''راشد غنوشی کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے، اسلام پسند مذہب کو ریاست سے الگ کرنے میں ناکام رہے ہیں''۔