.

الوداع 2012ء نئے سال کا رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ آغاز

سڈنی سے نیویارک تک آتش بازی کا اہتمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سال 2012ء تمام حشر سامانیاں، حوادث اور الم ناک واقعات اپنے دامن میں لپیٹے رخصت ہو رہا ہے اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی اور نیوزی لینڈ میں رنگا رنگ تقریبات کے ساتھ نئے سال کا آغاز ہو گیا ہے۔

دنیا میں سب سے پہلے سڈنی میں سال 2013ء کو آتش بازی کے زبردست مظاہرے کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا اور آسٹریلیا سے آغاز ہونے والے نئے سال کا جشن منٹوں اور گھنٹوں کے ساتھ مشرق سے مغرب کی جانب سفر کر رہا ہے اور ملکوں ملکوں آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک اور چڑھتے سورج کی سر زمین جاپان میں نئے سال کا نئی امیدوں، تمناؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ استقبال کیا گیا۔

جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے بعد جنوبی ایشیا کے ممالک افغانستان، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور سری لنکا میں بھی نئے سال کا آغاز پر رنگا رنگ تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

خلیجی شہر دبئی میں نئے سال کی آمد کے موقع پر دنیا کی سب سے بلند و بالا عمارت برج خلیفہ میں ایک پرتعیش تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر آتش بازی کا زبردست مظاہرہ کیا جائَے گا اور اس کے ساتھ پراگ فل ہارمونک آرکسٹرا اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا۔

نئے سال کے آغاز کے موقع پر لندن، برلن، ماسکو، کریملن، ہانگ کانگ، کوالالمپور، تائی پی، اسٹاک ہوم، ایمسٹرڈیم، بیجنگ، شنگھائی، نیو یارک، واشنگٹن اور دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں رنگا رنگ تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر موسیقی کے پروگرام، دل فریب آتش بازی اور راگ رنگ کی محفلیں منعقد کی جا رہی ہیں۔

لاطینی امریکا کے ملک وینزویلا کے دارالحکومت کیراکس میں سال کے آخر میں منعقد ہونے والے روایتی کنسرٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور شہر کے مئیر نے لوگوں سے صدر ہوگو شاویز کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔ وہ سرطان کے مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور اس وقت کیوبا میں زیر علاج ہیں۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حکام نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہر قسم کی آتش بازی پر پابندی عاید کر رکھی ہے اور ایلزی پیلس یا ایفل ٹاور آنے والے شہری اب سادہ انداز ہی میں اپنی خوشیوں کا اظہار کر سکیں گے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں نئے سال کی آمد پر پندرھویں صدی کی کانسی کی گھنٹی تینتس مرتبہ بجائی گئی۔ اس موقع پر یہ گھنٹی ہر نئے سال کے آغاز کے موقع پر بجائی جاتی ہے۔ شہری آتش بازی اور دیگر رنگا رنگ تقریبات کا بھی اہتمام کر رہے ہیں۔ میانمر کے دارالحکومت ینگون میں نئے سال کی آمد پر منعقدہ تقریب میں پچاس ہزار سے زیادہ افراد کی شرکت متوقع تھی۔