.

مصری کرنسی چند دنوں میں بہتر ہو جائے گی صدر مرسی

ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قیمت میں ریکارڈ کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی کا کہنا ہے کہ ملکی کرنسی کی صورت حال آیندہ چند روز میں بہتر ہو جائے گی اور ڈالر کے مقابلے میں مصری پاؤنڈ کی قیمت میں کمی کسی پریشانی کا سبب نہیں ہے۔

صدر مرسی نے یہ بات حالیہ کرنسی بحران کے حوالے سے عرب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ کرنسی کے اس بحران سے مصری صدر کے لیے نئے معاشی چیلنجز بھی پیدا ہو گئے ہیں جبکہ وہ پہلے ہی اسی ماہ آئینی ریفرینڈم کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے مضمرات سے نمٹ رہے ہیں۔

درایں اثناء مصر کے مرکزی بنک نے آج سوموار کو ساڑھے سات کروڑ ڈالرز دوسرے بنکوں کو نیلامی میں فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے۔بنک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہر بنک کو زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ دس لاکھ ڈالرز ہی فروخت کیے جائیں گے۔

مصر کے مرکزی بنک نے اتوار کو بھی ساڑھے سات کروڑ ڈالرز فروخت کرنے کی پیش کش کی تھی اور اس نے سات کروڑ انچاس لاکھ ڈالرز کی بولیاں منظور کر لی تھیں لیکن اس بولی کے بعد سے مصری پاؤنڈ کی انٹر بنک قیمت میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت 30۔6 مصری پاونڈ ہو گئی تھی۔

مصر میں نئے آئین پر ریفرینڈم کے خلاف حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بہت سے شہریوں نے بنکوں میں پڑی اپنی جمع پونجی کو ڈالرز میں تبدیل کر لیا تھا جس کی وجہ سے ملک میں کرنسی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ مرکزی بنک نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر صرف تین ماہ کی درآمدات کے لیے رہ گئے ہیں۔

مرکزی بنک نے کرنسی کے استحکام کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ان کے تحت غیر ملکی کرنسی کا باقاعدگی سے نیلام عام کیا جائے گا جبکہ کمرشل بنکوں کے حکام نے ملکی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی تجویز پیش کی ہے کیونکہ مرکزی بنک نے گذشتہ دو سال کے دوران بیس ارب ڈالرز سے زیادہ رقم کرنسی کے دفاع میں صرف کر دی ہے۔