.

دستور کے خلاف عریاں احتجاج دوشیزہ کی شہریت منسوخی کی درخواست

مجھے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں: عالیہ مہدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے حال ہی میں منظور کیے جانے والے دستور کے خلاف "عریاں احتجاج" کرنے والی مصری دوشیزہ عالیہ المہدی کی شہریت منسوخی کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

ایک مصری رضاکار نے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں عالیہ مہدی کی شہریت ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ مدعی محمود عبد الرحمن نے عالیہ مہدی کی جانب سے سویڈن میں مصری سفارت خانے کے باہر ملک کے اسلامی دستور کے خلاف عریاں احتجاج کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے مصر کی ساکھ اور مذہب کی توہین کی گئی ہے۔

اپنی چارج شیٹ میں عبد الرحمن نے عالیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے خواتین حقوق کی بین الاقوامی انجمن "FEMEN"" کی ارکان کے ساتھ مل کر اپنے جسم پر دستور کے خلاف مذمتی بیانات لکھوائے۔

"اس کے بعد مہدی اپنی دو ہم جولیوں کے ہمراہ سویڈن کے دار الحکومت سٹاک ہوم میں مصری سفارتخانے کے سامنے بطور احتجاج عریاں کھڑی ہو گئیں۔ عبدالرحمن نے پراسیکیوٹر جنرل کو احتجاج پر مبنی ویڈیو فوٹیج کی سی ڈی ثبوت کے طور پر پیش کی ہے۔

ادھر متنازعہ عریاں احتجاج کرنے والی مصری دوشیزہ نے بتایا ہے کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مصری اخبار الوطن سے بات کرتے ہوئے عالیہ مہدی نے کہا کہ اگر میں نے موجودہ حکومت کے دور میں مصر واپس گئی تو مجھے یا تو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے یا قتل کر دیا جائے گا۔

عالیہ مہدی نے مصر کے لبرل حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آزاد خیال حلقوں کے اس الزام پر حیرت ہے کہ میرے عریاں احتجاج سے ان کے "کاز" کو نقصان پہنچا ہے۔ "یہ لوگ دوغلے ہیں۔ ایک طرف یہ آزادی کی باتیں کرتے ہیں دوسری جانب کبھی اس بات کا عملی اظہار نہیں کرتے جس کی تبلیغ کرتے انکی زبان نہیں تھکتی۔