.

افغان طالبان نے امریکی انخلاء کو ویت نام کے مشابہ قرار دے دیا

''امریکی ویت نام کی طرح دم دبا کر بھاگنا چاہتے ہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں نے امریکی فوج کے انخلاء کو سن انیس سو ستر کے عشرے میں ویت نام سے انخلاء کے مشابہ قرار دے دیا ہے اور اسے اپنی علانیہ فتح قرار دیا ہے۔

طالبان مزاحمت کاروں نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جنگ زدہ ملک میں امریکی فوج سے افغان فورسز کو سکیورٹی کی ذمے داریوں کی منتقلی جنوبی ویت نام سے امریکی فوج کے انخلاء ایسا ہی اقدام ہے۔امریکی فوج نے ویت نام کی فوج سے ہزیمت اٹھانے کے بعد اس کو خالی کر دیا تھا اور 1975ء میں وہاں کمیونسٹ فاتح ٹھہرے تھے۔

امریکا کی قیادت میں نیٹو فوجوں کا پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے انخلاء مکمل ہو جائے گا۔تاہم امریکی فوج اپنے کچھ دستوں کو افغان فورسز کی تربیت یا دوسرے امور کی انجام دہی کے لیے جنگ زدہ ملک ہی میں رکھے گی جبکہ نیٹو کے رکن ممالک نے کابل حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے وعدے کیے ہیں۔

طالبان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ''امریکی ویت نام کی طرح افغانستان سے بھی دم دبا کر بھاگنا چاہتے ہیں۔جب امریکیوں کو ویت نام میں مکمل تباہی کا سامنا ہوا تھا تو انھوں نے ''اعلان فتح اور بھاگنے'' کا فارمولا وضع کیا تھا اور یہی کچھ اب وہ افغانستان میں بھی دُہرانا چاہتے ہیں۔ وہ سکیورٹی کی ذمے داریاں منتقل کرنے کے بعد راہ فرار اختیار کر رہے ہیں''۔

یاد رہے کہ امریکا نے 1973ء میں جنوبی ویت نام سے اپنے جنگی دستوں کو واپس بلا لیا تھا اور جنوبی ویت نام کی فورسز کو شمالی ویت نام اور ویت کانگ کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا تھا اور وہ دوسال کے بعد پیش قدمی کرتے ہوئے دارالحکومت سیگون میں داخل ہوگئے تھے۔

امریکا ویت نام والا تجربہ افغانستان میں بھی دُہرا رہا ہے۔ اس کے پیش نظر غیر جانبدار تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ طالبان مزاحمت کار غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد بہت جلد دارالحکومت کابل پر بھی قابض ہو جائیں گے کیونکہ صدر حامد کرزئی کی قیادت میں افغانستان کی نئی اور غیر تربیت یافتہ سکیورٹی فورسز سخت جان اور بہتر تربیت یافتہ طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔