.

امریکا آج بھی سرد جنگ کے زمانے میں رہ رہا ہے ایران

نیا امریکی قانون لاطینی امریکا میں ننگی مداخلت کا مظہر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہناہے کہ امریکا آج بھی سرد جنگ کے زمانے میں رہ رہا ہے۔

رامین مہمن پرست نے یہ بات امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے ایک قانون کی منظوری کے ردعمل میں کہی ہے جس کا مقصد لاطینی امریکا پر ایران کے اثرات کو روکنا اور ان کا تدارک کرنا ہے۔

انھوں نے تہران میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''امریکی صدر کا حال ہی میں نافذ کردہ قانون لاطینی امریکا کے داخلی امور میں ننگی مداخلت کا مظہر ہے اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نئے عالمی تعلقات سے لگا نہیں کھاتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ہم امریکیوں کو سفارش کریں گے کہ وہ آج کی دنیا میں قوموں کے حقوق کا احترام کریں کیونکہ عالمی رائے عامہ اس طرح کی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔ رامین مہمن پرست نے واضح کیا کہ ایران کے لاطینی امریکی ممالک سمیت تمام قوموں کے ساتھ باہمی احترام اور مفاد پر مبنی دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مقابلے کے لیے منظور کردہ قانون دراصل خطے میں کھلی مداخلت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''امریکا اب بھی سرد جنگ کے زمانے میں رہ رہا ہے اور لاطینی امریکا کے ممالک کو اپنی چراگاہ سمجھتا ہے''۔

امریکی صدر براک اوباما نے جمعہ کو ایران مخالف قانون کو نافذ العمل کیا تھا۔ اس کے تحت امریکی محکمہ خارجہ لاطینی امریکا کے ممالک میں ایران کے اثرونفوذ کو کم کرنے کے لیے نئی سیاسی اور سفارتی حکمت عملی وضع کر سکے گا۔

مغربی ہیمیسفئیر کے نام سے اس ایکٹ کی امریکی کانگریس نے 2012ء کے اوائل میں منظوری دی تھی۔ اس میں امریکی محکمہ خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کی امریکا مخالف سرگرمیوں کے سدباب کے لیے ایک سو اسی دن کے اندر نئی حکمت عملی وضع کرے۔

اس قانون کے مسودے میں امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ کینیڈا اور میکسکو کی سرحدوں کے ساتھ نگرانی کے عمل کو موثر بنائے تاکہ ایران، پاسداران انقلاب کور، اس کی القدس فورس، حزب اللہ یا کسی بھی اور دہشت گرد تنظیم کے وابستگان کو امریکا میں دراندازی سے روکا جا سکے۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے سنئیر حکام اور انٹیلی جنس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے اشارے نہیں ملے۔

واضح رہے کہ ایران نے عالمی پابندیوں کے تناظر میں 2005ء کے بعد لاطینی امریکا کے ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات میں اضافہ کر دیا ہے اور اس نے خطے میں چھے نئے سفارت خانے کھولے ہیں جس کے بعد اس کے سفارت خانوں کی تعداد گیارہ ہو گئی ہے۔ ان کے علاوہ اس نے ان ممالک میں سترہ ثقافتی مراکز قائم کر رکھے ہیں۔