.

حزب اسلامی کا پاکستانی طالبان سے کوئی تعلق نہیں گلبدین حکمتیار

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار نے پاکستانی طالبان سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے پاکستانی شدت پسندوں کی جانب سے اسکولوں کو بم دھماکوں سے اڑانے اور لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔

سابق افغان وزیر اعظم حکمتیار نے برطانوی اخبار 'ٹیلی گراف' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کہیں بھی اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو بم دھماکوں سے اڑانے کیخلاف ہیں۔

حکمتیار نے غیر ملکی انٹلیجنس ایجنسیز کو اس طرح کے حملوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ "میرا نہیں خیال کہ کوئی سچا مسلمان اس طرح کے حملوں میں ملوث ہو سکتا ہے"۔

پاکستانی طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول بند کرانے کے واقعات اس وقت منظر عام پر آ گئے تھے جب اکتوبر میں انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کی مہم چلانے والی 15 سالہ ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔

حکمتیار نے کہا کہ حزب اسلامی نے ان سخت پالیسیز میں نرمی دکھائی ہے جس میں خواتین پر تعلیم کی پابندی بھی شامل ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا گروپ لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کو بھی ضروری خیال کرتا ہے تاہم وہ لڑکے اور لڑکیوں کی ایک ساتھ (مخلوط) تعلیم کے خلاف ہیں۔

یہ ویڈیو ٹیلی گراف کو ایک رابطہ کار کی جانب سے حاصل ہوئی ہے جس میں حزبِ اسلامی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت 2014 کے انتخابات میں صرف ان شرائط پر حصہ لے گی کہ تمام غیر ملکی افواج کا مکمل انخلاء ہو۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ غیر ملکی افواج ناکام ہو گئی ہیں اور افغانستان میں صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔

امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے ولے حکمتیار نے خبردار کیا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں بدترین خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ "ہمیں 2014 کے بعد انتہائی خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پر سکتا ہے جس کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا"۔

تاہم انہوں نے 2014 میں افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا سے قبل زیادہ زیادہ غیر ملکی فوجی قتل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ تازہ حملے افغانستان فتح کرنے کا خواب دیکھنے والوں کیلیے ایک وارننگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے قبل مجاہدین اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ہم ان افواج کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ یہ دوبارہ یہاں کا رخ کرنے کا تصور بھی نہیں کریں گے۔