.

مصری صدر کے خصوصی ایلچی کی حاکم دبئی سے ملاقات

محمد مرسی کا ہاتھ سے تحریر کردہ خط پہنچایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم حاکم دبؕہ الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے بدھ کی شب مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خصوصی ایلچی اور مشیر امور خارجہ و بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر عصام الحداد سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر عصام الحداد نے ملاقات میں مصری صدر کا یو اے ای کے سربراہ الشیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کے نام ہاتھ سے تحریر کردہ خط پہنچایا۔ ذرائع کے مطابق خط دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے۔

اس موقع پر مصری انٹلیجنس کے سربراہ جنرل محمد رافت شحاتہ، الشیخ منصور بن زاید آل نھیان ڈپٹی وزیر اعظم، الشیخ عبداللہ بن زاید آل نھیان وزیر خارجہ یو اے ای اور دوسرے اہم حکومتی عہدیدار موجود تھے۔ ملاقات میں دونوں ملکوں سے متعلق مشترکہ امور زیر بحث آئے

یہ ملاقات یو اے ای کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ملک میں اخوان المسلمون کے دس رکنی سیل میں شامل رہنماؤں کی ملک سے گرفتاری کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

اخبار الخلیج نے ذرائع کے حوالے سے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا تھا کہ یو اے ای میں اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنوں کی مسلسل ایک برس سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مسلسل مانیٹرنگ کے نتیجے میں حکام کو معلوم ہوا کہ تنظیم یو اے ای میں اپنا نیٹ ورک انتہائی منظم طریقے سے چلا رہی ہے۔ اس کے کارکن ملک کے مختلف حصوں میں خفیہ تنظیمی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ 'انتطامی دفاتر' کے کور نام سے اخوان المسلمون دبئی میں مقیم مصری کیمونٹی کو اپنا ہمنوا بنانے میں مصروف تھی۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم نے مالی وسائل جمع کرنے کی غرض سے مختلف کمپنیاں اور فرنٹ ڈیسک بنا رکھے تھے۔ ان کے ذریعے بھاری رقوم جمع کی گئیں جنہیں بعد ازاں غیر قانونی طریقوں سے مصر میں مادر تنظیم کو بھجوایا گیا۔ حکام کے مطابق اخوان المسلمون کی دبئی سے گرفتار قیادت اور کارکن ملک کے دفاعی نظام کے بارے معلومات اور اہم راز بھی جمع کرنے میں مصروف پائے گئے۔

دوسری جانب ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مصری اخوان المسلمون اور متحدہ عرب امارات میں سرگرم خفیہ گروپ کے درمیان مضبوط روابط موجود ہیں۔ دونوں گروپوں کے درمیان مسلسل رابطہ اور خفیہ ملاقاتیں ہوتی تھیں جن میں مصری اخوان المسلمون اور خفیہ تنظیم کی قیادت کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ مصری اخوان المسلمون نے یو اے ای میں اپنی خفیہ تنظیم کے کارکنوں کے لئے انتخابات کے بارے میں کئی لیکچرز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جن میں عرب ملکوں میں حکومت میں تبدیلی کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔